شہادة القرآن — Page 390
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۸ شهادة القرآن چکے اور اپنی اسی کتاب میں جس کی اشاعت ان کا شباروزی فرض ہے وہ صاف درج کر چکے ہل ہیں کہ گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا اصل کلام مؤلف یہ ہے جو اس کتاب کے حصہ سیوم و چہارم سے بہ تلخیص نقل کیا جاتا ہے۔ حصہ سیوم کے ابتدائی اوراق میں آپ فرماتے ہیں۔ مسلمانوں پر جن امور کا اپنی اصلاح حال کے لئے اپنی ہمت اور کوشش سے انجام دینا لا زم ہے۔ وہ انہیں فکر اور غور کے وقت آپ ہی معلوم ہو جائیں گے حاجت بیان و تشریح نہیں ۔ مگر اس جگہ ان امروں میں سے یہ امر قابل تذکرہ ہے جس پر گورنمنٹ انگلشیہ کی عنایات اور توجہات موقوف ہیں کہ گورنمنٹ ممدوحہ کے دل پر اچھی طرح یہ امر مرکوز کرنا چاہیے کہ مسلمانان ہند ایک وفادار رعیت ہے کیونکہ بعض نا واقف انگریزوں نے خصوصا ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے جو کمیشن تعلیم کے اب پریزیڈنٹ ہیں اپنی ایک مشہور تصنیف میں اس دعوی پر بہت اصرار کیا ہے کہ مسلمان لوگ سرکار انگریزی کے دلی خیر خواہ نہیں ہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں گو یہ خیال ڈاکٹر صاحب کا شریعت اسلام پر نظر کرنے کے بعد ہر ایک شخص پر محض بے اصل اور خلاف واقعہ ثابت ہوگا لیکن افسوس کہ بعض کو ہستانی اور بے تمیز سفہا کی نالائق حرکتیں اس خیال کی تائید کرتی ہیں اور شاید انہی اتفاقی مشاہدات سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا و ہم بھی مستحکم ہو گیا ہے کیونکہ کبھی کبھی جاہل لوگوں کی طرف سے اس قسم کی حرکات صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن محقق پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے لوگ اسلامی تدین سے دور و مہجور ہیں اور ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے مکلین عیسائی تھا۔ پس ظاہر ہے کہ ان کی یہ ذاتی حرکات ہیں نہ شرعی پابندی ہے ۔ اور ان کے مقابل پر ان ہزار ہا مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے جو ہمیشہ خیر خواہی دولت انگلشیہ کی کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلا اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو با علم اور با تمیز تھا ہر گز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدددی چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی با وصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی