شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 502

شہادة القرآن — Page 329

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۷ شهادة القرآن نہ اُن کے بیٹوں کو کسی نے قتل کیا نہ وہ کسی دریا سے پار کئے گئے ۔ پھر آگے فرماتا ہے وَاذْ قُلْتُمْ يَمُوسى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصُّعِقَةُ وَانْتُمْ تَنْظُرُونَ - ثُمَّ بَعَثْنَكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوی یعنی وہ وقت یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا کہ ہم تیرے کہے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو بچشم خود نہ دیکھ لیں تب تم پر صاعقہ پڑی اور پھر تم کو زندہ کیا گیا تا کہ تم شکر کرو اور ہم نے بادلوں کو تم پر سائبان کیا اور ہم نے تم پر من وسلویٰ اُتارا۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ تو ان یہودیوں سے جو قرآن میں مخاطب کئے گئے دو ہزار برس پہلے فوت ہو چکے تھے اور ان کا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نام ونشان بھی نہ تھا پھر وہ حضرت موسیٰ سے ایسا سوال کیونکر کر سکتے تھے کہاں اُن پر بجلی گرمی کہاں انہوں نے من وسلویٰ کھایا۔ کیا وہ پہلے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اور اور قالبوں میں موجود تھے اور پھر آنحضرت کے زمانہ میں بھی بطور تناسخ آموجود ہوئے اور اگر یہ نہیں تو بجز اس تاویل کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ مخاطبت کے وقت ضروری نہیں کہ وہی لوگ حقیقی طور پر واقعات منسوبہ کے مصداق ہوں جو مخاطب ہوں۔ کلام الہی اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ایک قاعدہ ٹھہر گیا ہے کہ بسا اوقات کوئی واقعہ ایک شخص یا ایک قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور دراصل وہ واقعہ کسی دوسری قوم یا دوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے اور اسی باب میں سے عیسی بن مریم کے آنے کی خبر ہے کیونکہ بعض احادیث میں آخری زمانہ میں آنے کا ایک واقعہ حضرت عیسی کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ وہ فوت ہو چکے تھے پس یہ واقعہ بھی حضرت مسیح کی طرف ایسا ہی منسوب ہے جیسا کہ واقعہ فرعون کے ہاتھ سے ﴿۳۲﴾ نجات پانے کا اور من و سلوی کھانے کا اور صاعقہ گرنے کا اور دریا سے پار ہونے کا اور قص لَن نَّصْبِرَ عَلى طَعَامٍ وَاحِدٍ " کا اُن یہودیوں کی طرف منسوب کیا گیا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے ۔ حالانکہ وہ واقعات اُن کی پہلی قوم کے تھے جو اُن سے صدہا برس پہلے مر چکے تھے ۔ پس اگر کسی کو آیات کے معنے کرنے میں البقرة: ۵۶ تا ٢۵۸ البقرة: ۶۲