شہادة القرآن — Page 307
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۰۵ شهادة القرآن اگر کوئی امرا اپنی کوشش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اُس کو کروڑہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کر کے پیدا کیا اور روایات صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ایک ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایا جاتا ہے اسناد کو دکھایا۔ علاوہ اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افترا کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں اُنہوں نے اس پر اتفاق کر لیا اور کس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیا تھا۔ پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری طرف ایسی حدیثیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں جن میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آخری (۱۰) زمانہ میں علماء اس امت کے یہودی صفت ہو جا ئیں گے اور دیانت اور خدا ترسی اور اندرونی پاکیزگی اُن سے دور ہو جائے گی اور اُس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بہت غلبہ ہو گا اور صلیبی مذہب کی حکومت اور سلطنت تقریبا تمام دنیا میں پھیل جائے گی تو اور بھی ان احادیث کی صحت پر دلائل قاطعہ پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اور ہمارے اس زمانہ کے علماء در حقیقت یہودیوں سے مشابہ ہو گئے اور نصاری کی سلطنت اور حکومت ایسی دنیا میں پھیل گئی کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ پھر جس حالت میں ایک جز اُس پیشگوئی کا صریح اور صاف اور بدیہی طور پر پورا ہو گیا تو پھر دوسری خبر کی صداقت میں کیا کلام رہا۔ یہ بات تو ہر یک عاقل کے نزدیک ہے کہ اگر مثلاً ایک حدیث احاد میں سے ہو اور سلسلہ تعامل میں بھی داخل نہ ہو مگر ایک پیشگوئی پر پر مشتمل ہو کہ وہ اپنے وقت پر پوری ہو جائے یا اُس کا ایک جز پورا ہو جائے تو اس حدیث کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ مثلا نارحجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریبا چھ سو برس گزرنے کے بعد بعینم پوری ہوگئی جس کے پورے ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اور اُس زمانہ میں پوری ہوئی کہ جب صد ہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے تو کیا ان حدیثوں کی نسبت اب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ احاد ہیں اس لیے یقینی طور پر قبول کے لائق نہیں ۔ کیونکہ جب اُن کی صداقت کھل گئی تو پھر ایسا خیال دل میں لانا نہایت بری اور مکر وہ نادانی ہے۔ پس ایسا ہی مسیح موعود کی پیشگوئی میں سوچ لو کہ