سیرة الابدال — Page 162
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۰ لیکچر لاہور ۱۳ دعا بھی کرو اور کوشش بھی کرو اور صادقوں کی صحبت میں بھی رہو کیونکہ اس راہ میں صحبت بھی شرط ہے ۔ یہ تمام احکام وہ ہیں جو انسان کو اسلام کی حقیقت تک پہنچاتے ہیں کیونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہوجانا اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو اور ایسی زبان حاصل کرنا جواس کے بلائے بولتی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور انسانی قومی اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اُس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اُس کی کنہ تک نہیں پہنچتیں ۔ وہ خود انسان کے دل کنہ ۔ سے نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم اُس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں ۔ پس ایسا ہی وہ اپنے قرب سے فانی انسان کو مشرف کرتا ہے ۔ تب وہ وقت آتا ہے کہ نا بینائی دور ہو کر آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خدا کو اُن نئی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اُس کی آواز سنتا ہے اور اُس کی نور کی چادر کے اندر اپنے تئیں لپٹا ہوا پاتا ہے۔ تب مذہب کی غرض ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنے خدا کے مشاہدہ سے سفلی زندگی کا گندہ چولہ اپنے وجود پر سے پھینک دیتا ہے اور ایک نور کا پیراہن پہن لیتا ہے۔ اور نہ صرف وعدہ کے طور پر اور نہ فقط آخرت کے انتظار میں خدا کے دیدار اور بہشت کا منتظر رہتا ہے بلکہ اسی جگہ اور اسی ق : ۱۷