سَت بچن — Page 330
۳۲۴ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ ان سب باتوں پر ہدایتیں لکھی ہیں اور انسان کی جسمانی حالتوں کو روحانی حالتوں پر بہت ہی مؤثر قرار دیا ہے۔ اگر ان حالتوں کو تفصیل سے لکھا جائے تو میں خیال نہیں کر سکتا کہ اس مضمون کے سنانے کے لئے کوئی وقت کافی مل سکے۔ انسان کی تدریجی ترقی میں جب خدا کے پاک کلام پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیونکر اس نے اپنی تعلیموں میں انسان کو اس کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے قواعد عطا فرما کر پھر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف کھینچا ہے اور اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت تک پہنچانا چاہا ہے تو مجھے یہ پُر معرفت قاعدہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اول خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنی درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلاوے۔ پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تا وہ اعتدال پا کر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں مگر یہ دونوں طریقے دراصل ایک ہی ہیں کیونکہ طبعی حالتوں کی اصلاح کے متعلق ہیں صرف اعلیٰ اور ادنی درجہ کے فرق نے ان کو دو قسم بنا دیا ہے اور اس حکیم مطلق نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور سے پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنی خلق سے اعلیٰ خلق تک ترقی کر سکے۔ اسلام کی حقیقت اور پھر تیسرا مرحلہ ترقیات کا یہ رکھا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کی محبت اور رضا میں محو ہو جائے اور سب وجود اس کا خدا کے لئے ہو جائے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس کو یاد دلانے کے لئے مسلمانوں کے دین کا نام اسلام رکھا گیا ہے کیونکہ اسلام اس بات کو کہتے ہیں کہ بکلی خدا کے لئے ہو جانا اور اپنا کچھ باقی نہ رکھنا جیسا کہ اللہ جلّ جلالہ فرماتا ہے۔ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي البقرة : ١١٣