سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 550

سَت بچن — Page 321

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۱۹ اسلامی اصول کی فلاسفی والے کی طرف واپس آ ۔ ایسا ہی اس وقت یہ خدا سے پرورش پاتا ہے اور خدا کی محبت اس کی غذا ہوتی ہے اور اسی زندگی بخش چشمہ سے پانی پیتا ہے اس لئے موت سے نجات پاتا ہے جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا یعنی جس نے ارضی جذبات سے اپنے نفس کو پاک کیا۔ وہ بچ گیا اور نہیں ہلاک ہوگا مگر جس نے ارضی جذبات میں جو طبعی جذبات ہیں اپنے تئیں چھپادیاوہ زندگی سے نا امید ہو گیا۔ غرض یہ تین حالتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں طبعی اور اخلاقی اور روحانی حالتیں کہہ سکتے ہیں اور چونکہ طبعی تقاضے افراط کے وقت بہت خطرناک ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات اخلاق اور روحانیت کا ستیا ناس کر دیتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی پاک کتاب میں ان کو نفس امارہ کی حالتوں سے موسوم کیا گیا۔ اگر یہ سوال ہو کہ انسان کی طبعی حالتوں پر قرآن شریف کا کیا اثر ہے اور وہ ان کی نسبت کیا ہدایت دیتا ہے اور عملی طور پر کس حد تک ان کو رکھنا چاہتا ہے تو واضح ہو کہ قرآن شریف کے رو سے انسان کی طبعی حالتوں کو اس کی اخلاقی اور روحانی حالتوں سے نہایت ہی شدید تعلقات واقع ہیں یہاں تک کہ انسان کے کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر کرتے ہیں۔ اور اگر ان طبعی حالتوں سے شریعت کی ہدایت کے موافق کام لیا جائے تو جیسا کہ نمک کی کان میں پڑ کر ہر ایک چیز نمک ہی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی یہ تمام حالتیں اخلاقی ہی ہو جاتی ہیں اور روحانیت پر نہایت گہرا اثر کرتی ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کے اغراض اور خشوع خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے۔ اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قومی اثر ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے طبعی افعال کو بظاہر جسمانی ہیں مگر ہماری روحانی حالتوں پر ضرور انکا اثر ہے مثلاً جب ہماری آنکھیں رونا شروع کریں اور گو تکلف سے ہی روویں مگر فی الفوران آنسوؤں کا ایک الشمس: ١١،١٠