سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 550

سَت بچن — Page 287

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۷ ست بچن مریم بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا مگر ہندوؤں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور (۱۳) کرنے کیلئے تولد کا داغ اپنے لئے قبول کر لیا خصوصاً آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دیئتوں کی طاقت سے مغلوب ہو گئی تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے پیٹ سے پیدا ہو کر اوتار لیا اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اُن سے لوگوں کو چھڑایا۔ یہ قصہ اگر چہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عقلمندی کی کہ عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ اُن کے لعنتی ہونے کے قائل ہوئے۔ قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے آخر اس مکر وہ اعتقاد میں ان دونوں قوموں کے فضلہ خوار عیسائی بنے۔ اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سو بھی جو عیسائیوں کو نہیں سو بھی اور وہ یہ کہ ہند ولوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب کبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخر اُن کے پر میشر کو یہی تدبیر خیال میں آئی کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیوے اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ قدیم ہے اور گذشتہ زمانہ کی طرف خواہ کیسے ہی اُوپر سے اوپر چڑھتے جائیں اُس خدا کے وجود کا کہیں ابتداء نہیں اور قدیم سے وہ خالق اور رب العالمین بھی سے لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کیلئے سولی پر چڑھا تا رہا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تد بیرا بھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سو بھی ہے اور ابھی بڑھے باپ کو یہ خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچاوے یہ تو ظاہر ہے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خدا قدیم اور ابد الآباد سے چلا آتا ہے یہ دوسری بات بھی ساتھ ہی ماننی پڑتی ہے کہ اس کی مخلوقات بھی بحیثیت قدامت نوعی ہمیشہ سے ہی چلی آئی ہے