سَت بچن — Page 192
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۲ ست بیچن اور چالیس روز تک روضہ شاہ شمس تبریز پر چلہ میں بیٹھے اور یہ وہ باتیں ہیں جو ایسے طور پر ثابت ہو گئی ہیں جو حق ثابت ہونے کا ہے پھر اسی پر باوا صاحب نے کفایت نہیں کی بلکہ اُن لوگوں کی طرح جو غالبہ عشق میں دیوانہ کی مانند ہو جاتے ہیں چولہ پہنا جس پر لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا ہم باوا صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ اُن کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا ان تمام امور سے ثابت ہے کہ باوا نا نک صاحب نے دل و جان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو قبول کیا اور نیز اُن کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اعلیٰ درجہ کے اولیاء پاک زندگی والے ہوئے ہیں تبھی تو وہ بعض ہندوستان کے اولیاء کے مقابر پر چلہ کشی کرتے رہے اور پھر بغداد میں جا کر سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے روضہ پر خلوت گزین ہوئے اگر باوا صاحب نے اس عظمت اور وقعت کی نظر سے کسی اور مذہب کو بھی دیکھا ہے تو ان تمام واقعات کے مقابل پر وہ واقعات بھی پیش کرنے چاہئے ورنہ یہ امر تو ثابت ہو گیا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو ترک کر کے نہایت صفائی اور صدق سے اسلام میں داخل ہو گئے ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیسے زبر دست قرائن جنگی تلواریں لے کر آپ کے شبہات کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں تمام واقعات جو ہم نے لکھے ہیں اُن کو نظر یکجائی سے دل کے سامنے لاؤ تا اُس بیچے اور یقینی نتیجہ تک پہنچ جاؤ جو مقدمات یقینیہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ بڑی نادانی ہے کہ کوئی واہیات اور بے سروپا شعر ناحق باوا صاحب کی طرف منسوب کر کے اس کو ایک یقینی امر سمجھ لیں ۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کے زمانہ کے بعد متعصب لوگوں نے بعض اقوال افترا کے طور پر اُن کی طرف منسوب کر دیئے ہیں گرنتھ کے بعض اشعار اور بعض مضامین جنم ساکھیوں کے نہایت مکر وہ جعل سازیوں سے لکھے گئے ہیں اس کی یہ وجہ تھی کہ متعصب لوگوں نے جب دیکھا کہ باوا صاحب کی تحریروں سے تو صاف اور کھلے کھلے اُن کا اسلام ثابت ہوتا ہے تو اُن کو اسلام کا مخالف ٹھہرانے کیلئے جعلی طور پر بعض شہد آپ بنا کر اُن کی طرف منسوب کر دیئے اور جعلی قصے لکھ دیئے اور وہ دوطور کی چالا کی عمل میں لائے ہیں اول ایسے اشعار جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے گرنتھ سے عمد ا خارج رکھے حالانکہ چشتی خاندان کے فقراء جن کے سلسلہ میں باوا صاحب مرید تھے اب تک سینہ بہ سینہ