سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 550

سَت بچن — Page 176

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۶ ست بچن کیونکہ اس عذر کے پیش کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں یہی رسم ہے کہ جس سے شکست کھاویں اس کو چولہ بنا کر دیا کرتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں ہوسکتا کہ ایسا چولا پہلے کسی قاضی * کے پاس موجود ہو اور باوا صاحب نے زبر دستی فتح پا کر اس سے چھین لیا ہو۔ کیونکہ اس بات کو فتح سے کچھ تعلق نہیں کہ اگر کسی مذہبی مباحثہ میں کوئی غالب ہو تو وہ اس بات کا مجاز سمجھا جائے کہ کسی کا اثاث البیت یعنی گھر کا مال اپنے قبضہ میں لے آوے پھر فتح پانا بھی سراسر جھوٹ ہے۔ اگر باوا صاحب مذہبی امور میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے پھرتے اور جابجا اسلام کی تکذیب کرتے تو پھر اُن کے جنازہ پر مسلمانوں کا یہ جھگڑا کیوں ہوتا کہ یہ مسلمان ہے۔ اور صد ہا مسلمان جمع ہو کر اُن کا جنازہ کیوں پڑھتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص مذہبی امر میں لڑنے جھگڑنے والا ہو اُس کے دشمن دین ہونے میں کسی کو اشتباہ باقی نہیں رہتا۔ پھر اگر باوا صاحب حقیقت میں اسلام کے دشمن تھے تو کیوں اُن کا جنازہ پڑھا گیا اور کیوں اُنہوں نے بخارا کے مسلمانوں کی طرف اپنی سخت بیماری کے وقت محط لکھا کہ اب میری زندگی کا اعتبار نہیں تم جلد آؤ اور میرے جنازہ میں شریک ہو جاؤ کیا کبھی کسی مسلمان نے کسی پادری یا پنڈت کے مرنے کے بعد اُس کی نماز جنازہ پڑھی یا اُس میں جھگڑا کیا یہ نہایت قوی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ دین اسلام کے ہرگز مکذب نہ تھے بلکہ مسلمان تھے تبھی تو علماء صلحا اُن سے محبت رکھتے تھے ۔ ورنہ ایک کافر سے محبت رکھنا کسی نیک بخت کا کام نہیں چشتیہ خاندان میں اب تک با وا صاحب کے وہ اشعار زبان زد خلائق ہیں جن میں وہ اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور وہ اشعار چونکہ اکابر کے سینہ بسینہ چلے آئے ہیں اس لئے گرنتھ کے اشعار سے جو دو سو برس کے بعد عوام الناس کی زبان سے لکھے گئے بہت زیادہ معتبر اور سند پکڑنے کے لائق ہیں چنانچہ ان میں سے ایک یہ شعر ہے ۔ کلمہ کہوں تو گل پڑے بن کلمہ گل نا جہاں کلمہ کہو لئے سب کل کلمہ میں ما یعنی مجھے اسی میں آرام آتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہوں اور بغیر اس کے مجھے آرام نہیں آتا جہاں کلمہ کا ذکر ہو تو تمام آرام اس سے مل جاتے ہیں۔ * اور یہ یقین اور بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ با وا صاحب ایک مدت دراز تک اسلامی ملکوں میں رہے اور تمام مسلمانوں نے اُن سے محبت کی بلکہ نانک پیر اُن کو ہلا نوٹ ۔ یہ بات نہایت بے حیائی کی ہے کہ جس دعوی کی تائید میں کوئی تحریری ثبوت اپنے پاس موجود نہ ہو اور کوئی ایسی کتاب اپنے ہاتھ میں نہ ہو جس میں ثابت شدہ روایت اور اس زمانہ کی کتاب کے مخالف یہ قصہ معلوم ہوا ہو تو پھر محض مذہبی تعصب کی رو سے ایسا جھوٹا قصہ بنایا جائے ۔ منہ حاشیہ دیکھیں اگلے صفحہ پر۔ (ناشر)