سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 550

سَت بچن — Page 154

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۴ ست بچن ۳۴ کچھ تو ریشمی رومال تھے اور کچھ سوتی اور بعض پشمینہ کے تھے اور بعض پشمینہ کے شمال اور ریشمی کپڑے ایسے تھے کہ اُن کی بُنت میں کچھ لکھا ہوا تھا اس غرض سے کہ تا معلوم ہو کہ یہ فلاں راجہ یا امیر نے چڑھائے ہیں ان رومالوں سے جو ابتدا سے ہی چڑھنے شروع ہو گئے یہ یقین کیا جاتا ہے کہ جو کچھ اس چولہ کی اب تعظیم ہوتی ہے وہ صرف اب سے نہیں بلکہ اُسی زمانہ سے ہے کہ جب باوا نا تک صاحب فوت ہوئے۔ غرض جب ہم جا کر بیٹھے تو ایک گھنٹہ کے قریب تک تو یہ رومال ہی اترتے رہے پھر آخر وہ کپڑہ نمودار ہو گیا جو چولا صاحب کے نام سے موسوم ہے درحقیقت یہ نہایت مبارک کپڑہ ہے جس میں بجائے زری کے کام کے آیات قرآنی لکھی ہوئی ہیں چنانچہ ہم نے اس کپڑہ کا نقشہ اسی رسالہ میں لکھ کر ان تمام قرآنی آیات کو جا بجا دکھلا دیا ہے جو اُس کپڑے پر لکھی ہوئی ہم نے دیکھی ہیں۔ اُس وقت یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کپڑے کے دکھلانے کے وقت دکھلانے والوں کو کچھ شرم سی دامنگیر ہو جاتی ہے اور وہ حتی المقدور نہیں چاہتے کہ اصل حقیقت سے لوگ اطلاع پا جائیں کیونکہ جو عقیدہ با وا صاحب نے اُس کپڑہ یعنی چولا صاحب کی تحریروں میں ظاہر کیا ہے وہ ہندو مذہب سے بھی مخالف ہے اور اسی وجہ سے جو لوگ چولا صاحب کی زیارت کراتے ہیں وہ بڑی احتیاط رکھتے ہیں اور اگر کوئی اصل بھید کی بات دیکھنا چاہے تو اُن کا دل پکڑا جاتا ہے مگر چونکہ ناخواندہ محض ہیں اس لئے کچھ طمع دینے سے دکھلا دیتے ہیں اور ہم نے جب دیکھنا چاہا تو اول انہوں نے صرف لپیٹا ہوا کپڑا دکھایا مگر کچھ تھوڑا سا کنارہ اندر کی طرف کا نمودار تھا جس کے حرف مٹے ہوئے تھے اور پشت پر ایک اور باریک کپڑا چڑھا ہوا تھا اور اُس کی نسبت بیان کیا گیا کہ یہ وہ کپڑا ہے کہ جس کو ارجن صاحب کی بیوی نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر اور پھر بنوا کر اُس پر لگا یا تھا اور بیان کرنے والا ایک بڑھا بیدی باوا صاحب کی اولاد میں سے تھا جو چولا کو دکھلا رہا تھا اور اس نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ اس پر لکھا ہوا ہے وہ انسان کا لکھا ہوا نہیں بلکہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے تب ہم نے بہت اصرار سے کہا کہ وہ قدرتی حروف ہم دیکھنا چاہتے ہیں جو خاص پر میشر کے ہاتھ کے ہیں اور اسی لئے ہم دور سے آئے ہیں تو پھر اُس نے تھوڑا سا پردہ اٹھایا جس پر بسم الله الرحمن الرحيم