سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 566

سناتن دھرم — Page 466

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۴ نسیم دعوت سخت عیب ہے۔ چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے که اگر چه شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دعا کرنے میں لگے رہو اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے۔ اصل میں شفاعت کا لفظ شفع سے لیا گیا ہے ۔ شفع جفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد ہے۔ پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے ۔ اور یاد رہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔ (1) خدا کی کوئی آواز دنیا میں سنائی نہیں دیتی۔ الجواب: تعجب کہ باوجود یکہ پنڈت لیکھرام کی موت سے تمام آریہ صاحبوں نے ر مارچ کے دن میں خدائے تعالیٰ کی آواز سن لی اور خدا نے دنیا میں اشتہار دے دیا کہ لیکھرام بوجہ اپنی بدزبانیوں کے چھ برس تک کسی کے ہاتھ سے مارا جائے گا وہ آواز نہ صرف ہم نے سنی بلکہ ہمارے ذریعہ سے سب آریہ صاحبوں نے سنی مگر کیا اب بھی ثابت نہ ہوا کہ خدا کی آواز دنیا کو سنائی دیتی ہے۔ آپ صاحبوں میں سے پکے آریہ لالہ شرم پت اور لالہ ملا وامل ساکن قادیان بہت سی خدا کی آوازوں کے گواہ ہیں۔ اگر وہ انکار کریں گے اور قوم کو خدا اپر مقدم رکھیں گے اور جھوٹ بولیں گے تو شاید کوئی اور آواز آسمانی سن لیں گے۔ المشتهر خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی ☆☆☆