سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 548

سبز اشتہار — Page 450

روحانی خزائن جلد ۲ بقیه حاشیه ۴۳۶ ہنڈ و و آریہ نام کا بیان شحنه حق ما هران علم و محققان حقیقت نے ہندو نام کی بابت یہ لکھا ہے کہ یہ لفظ اس دریا کے نام سے بنا ہے جو سندھو کہلاتا ہے کیونکہ اکثر الفاظ جو زبان سنسکرت سے زبان فارسی میں آگئے ہیں وہ اس طرح ۳۲ تبدیل شدہ پائے جاتے ہیں یعنی جن الفاظ سنسکرت کے شروع میں ( سین ) ہوتا ہے تو زبان فارسی میں ان الفاظ کے ماقبل کا (سین) (ہائے ہوز ) سے تبدیل شدہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً جو لفظ سنسکرت میں (سپتہ ) ہے وہ بزبان فارسی (ہفتہ) ہو گیا ہے اور ویسا ہی و سم کا وہم اور سہسر کا فارسی میں ہزار اور اسی طرح سندھو کا اسح دح حاشیه در حاشیه دیانند جی جنہوں نے وکلاء سے آریہ سماج قائم کی ہے وہ اور ان کے پیرواکثر یہ بیان کرتے ہیں کہ ہندو فارسی میں چور کو کہتے ہیں اور یہ نام ہماری قوم کا ہمارے دشمنوں یعنی محمد یوں نے رکھا ہوا ہے۔ یہ بیان ان کا محض غلط ہی نہیں بلکہ دو مطلبوں کے لئے ایک دھوکا ہے۔ اول یہ کہ ہندوؤں کو اس نام سے نفرت ہو جاوے اور خواہ مخواہ اپنے تئیں آریہ لکھا کریں اور اس حکمت عملی سے تعداد د یا نند جی کے پنتھ جی کی روز بروز ۳۲ ح دح بڑھتی چلی جاوے۔ دوئم ہندوؤں اور محمد یوں میں جو اتفاق اور میل جول ہو رہا ہے بجائے اس کے نفاق پیدا ہو جاوے۔ پس فارسی دان اشخاص یہ جانتے ہیں کہ ہندو فارسی میں بھی ایک لفظ ہے جس کے اصطلاحی معنے چور کے کئے گئے ہیں مگر یہ لفظ ہندو کا جو قوم ہنود پر بولا جاتا ہے وہ لفظ نہیں جو فارسی میں مستعمل ہوا ہے۔ نیز یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہند و لفظ جو فارسی میں آیا ہے اس کے اصطلاحی معنے صرف چور ہی کے نہیں بلکہ بعض اوقات وہ معشوق کے معنے بھی دیتا ہے جیسا کہ شیرازی کہتا ہے بخال ہندوش بخشم سمرقند و بخارارا۔ اگر یہ کہا جاوے کہ فارسی میں ہندو کے معنے بُرے واچھے دونوں طرح کے استعمال ہوئے ہیں اس لئے ہندو نام کو چھوڑ نا چاہیے تو اس سبب سے نہ ہند و نام بلکہ اور بھی بہت نام ترک کرنے پڑیں گے ۔ مثلاً رام کا لفظ بھی فارسی میں اچھے معنے نہیں رکھتا کیونکہ فارسی میں رام ۔ غلام و فرمانبردار کو کہتے ہیں اگر ہندو نام قابل تبدیل ہے تو رام نام بھی تبدیل ہونا چاہیے اور پھر اسی طرح آریا عربی میں کینہ ور قوم کو کہتے ہیں وہ بھی ۳۳ د تبدیل کیا جاوے اور پھر بید سنسکرت میں حکیم کو کہتے ہیں مگر فارسی میں ایک درخت بے شمر کو کہتے ہیں اور پھر انا سنسکرت میں اس کو کہتے ہیں جس کا شروع نہ ہو لیکن یہ تبدیل اعراب فارسی میں عناد دشمنی کو کہتے ہیں اور دیا نند جی اپنی تحریروں میں ویدوں کو انادی پکارتے رہے ہیں تو کیوں یہاں پر لحاظ معنے فارسی کا نہیں کیا گیا جو ہند و نام پر لحا ظ فارسی کے معنوں کا کیا جاتا ہے پس اگر ہند و نام قابل تبدیل ہے تو انا دبھی جو ویدوں پر عائد کیا گیا ہے قابل تبدیل سمجھنا چاہیے۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہ امر واجبی ہے کہ جن ناموں کے معنے غیر زبانوں میں بڑے ہوں ان کو تبدیل کرنا مناسب ہے پس جس میں کچھ بھی عقل ہو