روئداد جلسۂ دعا — Page 679
29 وعید دیکھئے ’’پیشگوئی‘‘ ولی فہم قرآن اور معارف کی اعلیٰ حقیقت تک کی وصولی کا کمال اولیاء کو دیا جاتا ہے ۴۱۸ مرتبہ شہادت جو اولیاء کو دیا جاتا ہے۔اس سے مراد ۴۲۰ قرآن کی طرح ولی اور نبی کے وجود میں بھی متشابہات کا حصہ ہوتا ہے ۴۲۵ح اس سوال کا جواب کہ جو رسول، نبی اور ولی ہیں کیوں خدا تعالیٰ نے ان کے حالات کو عوام کی نظر میں مشتبہ کر دیا ۴۲۲ حاشیہ ولایت اور قبولیت کی علامت میں ایک لازمی شرط، امور غیبیہ اور پوشیدہ باتوں کا بکثرت ظہور ہونا ہے ۴۱۷ اللہ کا ولایت کے مرتبہ سے سرفراز فرمانے والوں کو ہمعصر لوگوں سے چار قسم کے امتیاز کلی بخشنا ۴۱۷ اکابر کا آخری آدم کو ولایت عامہ کا خاتم سمجھنا ۴۸۱ ولایت کے مقام پر وہی پہنچ سکتا ہے جس کو عنایت ازلی نے قدیم سے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے منتخب کیا ہو ۴۱۷ قرآن کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم جس تک اولیاء کے علاوہ کوئی اور نہیں پہنچ سکتا ۴۱۸ اولیاء کا اول مرتبہ صدق دنیا سے نفرت اور ہر ایک لغو امر سے طبعی کراہت ہے ۴۱۸ اولیاء کا دوسر ا درجہ انس، شوق اور رجوع الی اللہ ہے ۴۱۹ اولیاء کے صدق کا تیسرا درجہ تبدل اعظم، انقطاع اثم، محبت ذاتیہ اور فنا فی اللہ کا درجہ ہے ۴۱۹ فنا فی اللہ کے مقام پر اولیاء کی حالت ۴۱۹ کمالِ نبوت سے موسوم کمال جو اولیاء کو دیا جاتا ہے ۴۱۸ تیسرا کمال جو اکابر اولیاء کو دیا جاتا ہے وہ مرتبۂ شہادت ہے ۴۱۰ ولی کا وہ درجہ جہاں وہ صدیق کے نام سے موسوم ہو جاتا ہے ۴۱۹ چوتھا مرتبہ کامل اولیاء کو جوملتا ہے وہ صالحین کا ہے ۴۲۲ اولیاء اللہ، نبی، رسول اورمحدث کی دو اقسام اور ان کی تفصیل ۲۷۶ تا ۲۷۹ اہل کمال لوگوں کے بعض کام جن کی سمجھ نہیں آتی ۴۲۳ ح اولیاء کے مقابلہ سے سلب ایمان کا خطرہ ۵۳۷ مردانِ کارِ زار سے مراد ۱۳۱ ح خدا کے پیارے آسمان پر بادشاہت رکھتے ہیں گو زمین پر ان کے سر رکھنے کے لئے بھی جگہ نہ ہو ۱۳۳ ح خدا سے ایک ابدی نور پانا جو انہیں متکبر نہیں بنا سکتا ۴۶۵ وہ مقام جہاں انسان خدا کی شکل دیکھنے کے لئے آئینہ ہو جائے ۲۶۹ اولیاء اور مقربین الٰہی کے انکار کرنے والوں کی حالت ۴۳۲ح، ۴۳۴ جو اولیاء کا انکار کرے رفتہ رفتہ سلسلہ نبوت بھی اس پر مشتبہ ہو جاتا ہے ۴۳۵ح وہابی نزول مسیح کے حوالہ سے عیسائیوں کی نسبت ان کا عقیدہ ۶ خونی مہدی اور مسیح کے عقیدہ کے باوجود منافقانہ طور پر حکام کی خوشامد کرنا اور ایسے عقائد کی مخالفت کرنا ۹ ہ،ی ہندو مذہب ہندو ہمیشہ تاریخ نویسی میں بہت کچے رہے ہیں ۷۶ ان کا مذہب مردہ ہے اور کوئی ان کے لئے زندہ فیض رسان موجود نہیں ۱۴۱ ان میں صرف پرانے قصے ہیں زندہ نمونہ نہیں ہے ۴۹۷ ہندوؤں کے بقول رشیوں کے دلوں پر وید کا پرکاش ہوا تھا ۱۳۹ ہندو مذہب پر عقلی اور کراماتی طور پر اسلام کی حجت پوری ہو گئی ۲۳۶ ہندوؤں کے نزدیک انسانی پاکیزگی کا نمونہ نیوگ ہے جو پنڈت دیانند نے ان کو سکھلایا ۲۳۵ ہندوؤں نے پرمیشر کے افعال اور اس کی قوت اور شکتی کو صرف انسانوں کی قوت اور شکتی پر قیاس کر لیا ہے