روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 610 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 610

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۱۰ رونداد جلسه دعا (۱۸) ایک مسلمان سپاہی تھا وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ بانگ دو اُس نے وہی ڈرتے ڈرتے گنگنا کر اذان دی سپاہی نے کہا کہ کیا تم اسی طرح پر با نگ دیا کرتے ہو مؤذن نے کہا ہاں اسی طرح دیتے ہیں سپاہی نے کہا کہ نہیں کو ٹھے پر چڑھ کر اُونچی آواز سے اذان دو اور جس قدر زور سے ممکن ہو سکتا ہے بانگ دو وہ ڈرا آخر اس نے سپاہی کے کہنے پر زور سے بانگ دی اس پر تمام ہندو ا کٹھے ہو گئے اور ملا کو پکڑ لیا، وہ بیچارہ بہت ڈرا اور گھبرایا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں آخر سنگ دل چھری مار برہمن اُس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے ۔ اور کہا کہ مہاراج اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا کار دار تو جانتا تھا کہ سلطنت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی مگر ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں بانگ دی ؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اُس نے نہیں میں نے بانگ دی کاردار نے کہا ۔ کم بختو ! کیوں شور ڈالتے ہو لاہور میں تو اب کھلے طور سے گائیاں ذبح ہوتی ہیں تم اذان کو روتے ہو جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو ۔ الغرض یہ واقعی اور کچی بات ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہے جس قوم نے ہم کو تحت الثریٰ سے نکالا ہے اُس کا احسان ہم نہ مانیں تو پھر یہ کس قدر نا شکری اور نمک حرامی ہے ۔ اس کے علاوہ پنجاب میں بڑی جہالت پھیلی ہوئی تھی ایک بوڑھے آدمی کے شاہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے اُستاد کو دیکھا ہے