روئداد جلسۂ دعا — Page 598
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۹۸ رونداد جلسه دعا (1) مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمد و ثنا کا مستحق نہیں ہے ۔ اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اُس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لئے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو ۔ یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاء وجود اور حفظ صحت اور قیامِ زندگی کے لئے کیا کیا اسباب ضروری ہیں اس نے وہ سب سامان مہیا کئے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اُس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اُس نے رحم کیا ہو اور اُس کو محفوظ رکھا ہو ۔ اور یا اس وجہ سے مستحق تعریف ہو سکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے ۔ اگر چہ بظا ہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے ۔ یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو ستحق حمد و ثنا بنا سکتی ہیں اب غور کر کے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں ۔ اوّل ۔ دیکھو صفت خلق اور پرورش ۔ یہ صفت اگر چه انسان گمان کر سکتا ہے کہ ماں باپ اور دیگر محسنوں کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں ۔ جن کی بنا پر وہ احسان کرتے ہیں ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلاً بچہ تندرست خوبصورت توانا پیدا ہو تو ماں باپ کو خوشی ہوتی ہے۔