روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 580 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 580

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۰ تحفه غزنویه ابوبکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی کہا راوی نے پس بخدا گو یا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابوبکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا ۔ پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گرا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔ وعمر بن الخطاب يكلم النّاس يقول لهم مامات رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔۔۔۔۔۔ ولا يموت حتى يقتل المنافقین ۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کر لیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل و نحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔ قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا اس آیت کا اگلا فقرہ یعنی افان مات او قتل صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گذر جانا صرف دو تم پر ہے یا بذریعہ موت حتف انف اور یا بذریعہ قتل اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ گذر جانا اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے گذر جانے کی تشریح لفظ افسان مات او قتل سے آپ کر دی اور اس پر حصر کر دیا تو اس کے بعد نہ ماننا کسی صالح مومن کا کا م نہیں ۔ منہ الــمــلـل لابــي الـفـتـح الامام محمد بن عبد الكريم الشهرستاني المتوفى ۵۴۸ ھ قال التاج السبكي في طبقاته كتاب الملل والنحل للشهر الستاني هو عندى خير كتاب فى هذا الباب صفحه ۹ - منه