ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی — Page 21
روحانی خزائن <mark>جلد</mark> ۱۹ ۲۱ کشتی نوح پیش کرتے ہیں اور اُس کی بے انتہا قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اُس کو کمزور سمجھتے ہیں سو ان سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے <mark>گا</mark> جیسا <mark>کہ</mark> ان کی حالت ہے لیکن جب تو دعا کے <mark>لئے</mark> کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے <mark>کہ</mark> یہ یقین رکھے <mark>کہ</mark> تیرا <mark>خدا</mark> ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو <mark>خدا</mark> کی قدرت کے عجائبات دیکھے <mark>گا</mark> <mark>جو</mark> ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رویت سے ہے نہ بطور قصہ کے۔ اُس شخص کی دعا کیونکر منظور ہو اور خود کیونکر <mark>اس</mark> کو بڑی مشکلات کے وقت <mark>جو</mark> اُس کے نزد یک قانون قدرت کے مخالف ہیں دعا کرنے کا حوصلہ پڑے <mark>جو</mark> <mark>خدا</mark> کو ہر ایک چیز پر قادر نہیں سمجھ<mark>تا</mark> مگراے سعید انسان تو ایسا مت کر تیرا <mark>خدا</mark> وہ ہے جس نے بیشمار س<mark>تا</mark>روں کو بغیر ستون کے لٹکا دیا اور جس نے زمین و آسمان کو محض عدم سے پیدا کیا۔ کیا تو اُس پر بدظنی رکھ<mark>تا</mark> ہے <mark>کہ</mark> وہ تیرے کام میں عاجز آ جائے <mark>گا</mark> بل<mark>کہ</mark> تیری ہی بدظنی تجھے محروم رکھے گی ۔ ہمارے <mark>خدا</mark> میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں <mark>جو</mark> صدق اور وفا سے <mark>اس</mark> کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر <mark>جو</mark> <mark>اس</mark> کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اُس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کر<mark>تا</mark>۔ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں <mark>کہ</mark> اُس کا ایک <mark>خدا</mark> ہے <mark>جو</mark> ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا <mark>خدا</mark> ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے <mark>خدا</mark> میں ہیں کیون<mark>کہ</mark> ہم نے <mark>اس</mark> کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی <mark>اس</mark> میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام و<mark>جو</mark>د کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! <mark>اس</mark> <mark>چشمہ</mark> کی طرف دوڑو <mark>خدا</mark> <mark>کس</mark>ی کام میں عاجز نہیں آ<mark>تا</mark>۔ ہاں <mark>خدا</mark> کی ک<mark>تا</mark>ب نے دعا کے بارہ میں یہ قانون پیش کیا ہے <mark>کہ</mark> وہ نہایت رحم سے نیک انسان کے ساتھ دوستوں کی <mark>طرح</mark> معاملہ کر<mark>تا</mark> ہے یعنی کبھی تو اپنی مرضی کو چھوڑ کر <mark>اس</mark> کی دعا <mark>سن</mark><mark>تا</mark> ہے جیسا <mark>کہ</mark> خود فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُول اور کبھی کبھی اپنی مرضی ہی منوانا چاہ<mark>تا</mark> ہے جیسا <mark>کہ</mark> فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ کے ایسا <mark>اس</mark> <mark>لئے</mark> کیا <mark>کہ</mark> <mark>تا</mark> کبھی انسان کی دعا کے موافق <mark>اس</mark> سے معاملہ کر کے یقین اور معرفت میں <mark>اس</mark> کو ترقی دے اور کبھی اپنی مرضی کے موافق کر کے اپنی رضا کی <mark>اس</mark> کو خلعت ی بخشے اور <mark>اس</mark> کا مرتبہ بڑھاوے اور <mark>اس</mark> سے محبت کر کے ہدایت کی راہوں میں <mark>اس</mark> کو ترقی دیوے۔ مہ المؤمن : ٦١ البقرة : ۱۵۶ منه