ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی — Page 210
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۰۸ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی خدا کے قطعی اور یقینی کلام کو بطور متروک اور مہجور کے قرار دے دیں اور اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ ایسی حدیثوں کو جن کے بیانات کتاب اللہ سے مخالف ہیں یا تو چھوڑ دیں اور یا اُن کی کتاب اللہ سے تطبیق کریں پس یہ وہ افراط کی راہ ہے جو مولوی محمد حسین نے اختیار کر رکھی ہے۔ اور ان کے مخالف مولوی عبداللہ صاحب نے تفریط کی راہ پر قدم مارا ہے جو سرے سے احادیث سے انکار کر دیا ہے اور احادیث سے انکار ایک طور سے قرآن شریف کا بھی انکار ہے کیونکہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يخبكُمُ الله ے پس جبکہ خدا تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے وابستہ ہے اور آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کیلئے جن پر اتباع موقوف ہے حدیث بھی ایک ذریعہ ہے۔ پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے اور مولوی عبد اللہ صاحب کا یہ قول کہ تمام حدیثیں محض شکوک اور ظنون کا ذخیرہ ہے۔ یہ قلت تدبر کی وجہ سے خیال پیدا ہوا ہے اور اس خیال کی اصل جڑ محدثین کی ایک غلط اور نا مکمل تقسیم ہے جس نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے کیونکہ وہ یوں تقسیم کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں ایک تو کتاب اللہ ہے اور دوسری حدیث ۔ اور حدیث کتاب اللہ پر قاضی ہے گویا احادیث ایک قاضی یا حج کی طرح کرسی پر بیٹھی ہیں اور قرآن اُن کے سامنے ایک مستغیث کی طرح کھڑا ہے اور حدیث کے حکم کے تابع ہے۔ ایسی تقریر سے بے شک ہر ایک کو دھوکا لگے گا کہ جب کہ حدیثیں سو ڈیڑھ سو برس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جمع کی گئی ہیں اور انسانی ہاتھوں کے مس سے وہ خالی نہیں ہیں اور با ایں ہمہ وہ احاد کا ذخیرہ اور ظنی ہیں اور اُن میں قسم متواترات شاذ و نادر جو حکم معدوم کا رکھتی ہیں اور پھر وہی قرآن شریف پر قاضی بھی ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ تمام دین اسلام ظنیات کا ایک تو وہ اور انبار ہے اور ظاہر ہے کہ ظن کوئی چیز نہیں ہے اور جو شخص محض ظن کو پنجہ مارتا ہے وہ مقام بلند حق سے بہت نیچے گرا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًات یعنی محض ظن حق الیقین کے مقابلہ پر کچھ چیز نہیں۔ پس قرآن شریف تو ال عمران : ۳۲ ۲ یونس: ۳۷