رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 550

رازِ حقیقت — Page 187

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸۷ کشف الغطاء اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمہیں تکلیف دی جائے تو تنگ ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک مت پہنچو اور صبر اور اخلاق سے کام لو۔ قرآن نے ہمیں صاف کہا ہے کہ عیسائیوں سے محبت اور خلق سے پیش آؤ اور نیکی کروہاں نیک نیتی سے اور ہمدردی کی راہ سے اور سچائی کے پھیلانے کی غرض سے اور صلح کی بناڈالنے کے ارادہ سے مذہبی مباحثات قابل اعتراض نہیں۔ دوسری شاخ جو میرے مشن کے متعلق ہے میری تعلیم ہے ۔ میں اپنی تعلیم کو قریبا انفین برس سے شائع کر رہا ہوں۔ اور پھر خلاصہ کے طور پر اشتہار ۲۹ مئی ۱۸۹۸ء اور نیز ۲۷ رفروری ۱۸۹۵ء کے اشتہار میں ان تعلیموں کو میں نے شائع کیا ہے اور یہ تمام کتابیں اور اشتہار چھپ کر پنجاب اور ہندوستان میں خوب شہرت پاچکے ہیں۔ اس تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور خدا کے بندوں سے ہمدردی اختیار کرو۔ اور نیک چلن اور نیک خیال انسان بن جاؤ۔ ایسے ہو جاؤ کہ کوئی فساد اور شرارت تمہارے دل کے نزدیک نہ آسکے ۔ جھوٹ مت بولو، افترا مت کرو اور زبان اور ہاتھ سے کسی کو ایذامت دو اور ہر ایک قسم کے گناہ سے بچتے رہو اور نفسانی جذبات سے اپنے تئیں رو کے رکھو۔ کوشش کرو کہ تا تم پاک دل اور بے شر ہو جاؤ۔ وہ گورنمنٹ یعنی گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ تمہارے مال اور آبروئیں اور جانیں محفوظ ہیں بصدق اس کے وفادار تابعدار ر ہو اور چاہیئے کہ تمام انسانوں کی ہمدردی تمہارا اصول ہو ۔ اور اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک منصوبہ اور فسادانگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاؤ۔ خدا سے ڈرو اور پاک دلی سے اس کی پرستش کرو۔ اور ظلم اور تعدکی اور غین اور ۸ رشوت اور حق تلفی اور بے جا طرفداری سے باز رہو ۔ اور بدصحبت سے پر ہیز کرو اور آنکھوں کو بد نگاہوں سے بچاؤ اور کانوں کو غیبت سننے سے محفوظ رکھو اور کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو بدی اور نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے