قادیان کے آریہ اور ہم — Page 470
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۶۶ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی بھی آسمان پر نہیں گیا ؟ اس قسم کے دلائل پیش کر کے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے بنایا اور دنیا کے ایک حصہ کو گمراہ کر دیا اور بہت سے مسلمان جو تمیں لاکھ سے زیادہ بتائے جاتے ہیں اس غلطی کو صحیح عقیدہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اس فتنہ کا شکار ہو گئے ۔ اب اگر یہ بات صحیح ہوتی اور در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے جاتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں اور مسلمان اپنی غلطی اور نا واقعی سے ان کی تائید کرتے ہیں تو پھر اسلام کے لیے تو ایک ماتم کا دن ہوتا کیونکہ اسلام تو دنیا میں اس لیے آیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دنیا کو ایک ایمان اور یقین پیدا ہو اور اس کی توحید پھیلے۔ وہ ایسا مذہب ہے کہ کوئی کمزوری اس میں پائی نہیں جاتی اور نہیں ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو وحدہ لا شریک قرار دیتا ہے۔ کسی دوسرے میں یہ خصوصیت تسلیم کی جاوے تو یہ تو اللہ تعالیٰ کی کسرشان ہے اور اسلام اس کو روانہیں رکھتا۔ مگر عیسائیوں نے مسیح کی اس خصوصیت کو پیش کر کے دنیا کو گمراہ کر دیا ہے اور مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے ان کی اس ہاں میں ہاں ملا دی اور اس ضرر کی پروانہ کی جو اس سے اسلام کو پہنچا۔ اس بات سے کبھی دھوکا نہیں کھانا چاہیے جو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ میچ کو زندہ آسمان پر اُٹھا لے جاوے؟ بے شک وہ قادر ہے مگر وہ ایسی باتوں کو کبھی روا نہیں رکھتا جو مبدع شرک ہو کر کسی کو شریک الباری ٹھہراتی ہوں اور یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک شخص کو بعض وجوہ کی خصوصیت دینا صریح مبدء شرک ہے۔ پس مسیح علیہ السلام میں یہ خصوصیت تسلیم کرنا کہ وہ تمام انسانوں کے برخلاف اب تک زندہ ہیں اور خواص بشری سے الگ ہیں۔ یہ ایسی خصوصیت ہے جس نے عیسائیوں کو موقع دیا کہ وہ اُن کی خدائی پر اس کو بطور دلیل پیش کریں۔ اگر کوئی عیسائی مسلمانوں پر یہ اعتراض کرے کہ تم ہی بتاؤ کہ ایسی خصوصیت اس وقت کسی اور شخص کو بھی ملی ہے؟ تو اس کا کوئی جواب اُن کے پاس نہیں ہے نقل مطابق اصل (ناشر)