قادیان کے آریہ اور ہم — Page 458
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۴ قادیان کے آریہ اور ہم بقیه حاشیه دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پہ اترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ تو انا اُس نے ہے کچھ دکھانا اس سے رجا یہی ہے اُن سے دو چار ہونا عزت ہے اپنی کھونا اُن سے ملاپ کرنا راہ ریا یہی ہے پس اے مرے پیار و عقبی کو مت بسا رو اس دیں کو پاؤ یارو بدر الدجی یہی ہے نا پاک شہوات عورتوں کی جوش ماریں گی بلکہ وہ تو دس قدم اور بھی آگے بڑھیں گی اور جبکہ پردہ کا پل بھی ٹوٹ گیا تو ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ان ناپاک شہوتوں کا سیلاب کہاں تک خانہ خرابی کرے گا چنانچہ جگن ناتھ اور بنارس اور کئی جگہ میں اس کے نمونے بھی موجود ہیں۔ کاش! اس قوم میں کوئی سمجھدار پیدا ہو۔ اور ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مکتی حاصل کرنے کے لئے اولاد کی ضرورت کیوں ہے۔ کیا ایسے لوگ جیسے پنڈت دیانند تھا جس نے شادی نہیں کی اور نہ کوئی اولاد ہوئی مکتی سے محروم ہیں؟ اور ایسی مکتی پر تو لعنت بھیجنا چاہیے کہ اپنی عورت کو دوسرے سے ہمہتر کرا کر اور ایسا فعل اس سے کرا کر جو عام دنیا کی نظر میں زنا کی صورت میں ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بجز اس ناپاک فعل کے اور کوئی ذریعہ اُس کی مکتی کا نہیں اور یہ بھی ہم سمجھ نہیں سکتے کہ جو ہزاروں طاقتیں اور قو تیں اور خاصیتیں روحوں اور ذرات اجسام میں ہیں وہ سب قدیم سے خود بخود ہیں۔ پر میشر سے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔ پھر ایسا پر میشر کس کام کا ہے اور اس کے وجود کا ثبوت کیا ہے؟ اور کیا وجہ کہ اس کو پر میشر کہا جائے؟ اور کامل اطاعت کا وہ کیونکر مستحق ہے جبکہ اس کی پرورش کامل نہیں اور جن طاقتوں کو اُس نے آپ نہیں بنایا اُن کا علم اس کو کیونکر ہے اور جبکہ وہ ایک روح کے پیدا کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو کن معنوں سے اُس کو سرب شکتی مان کہا جاتا ہے جبکہ اس کی شکتی صرف جوڑنے تک ہی محدود ہے۔ میرا دل تو یہی گواہی دیتا ہے کہ یہ نا پاک تعلیمیں وید میں ہرگز نہیں ہیں۔ پر میٹر تو تبھی پر میشر رہ سکتا ہے جبکہ ہر ایک فیض کا وہی مبدء ہو۔ بیدانت والوں نے بھی اگر چہ غلطیاں کیں مگر تھوڑی ہی اصلاح سے ان کا مذہب قابل اعتراض نہیں رہتا مگر دیا نند کا مذہب تو سرا سر گندہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دیا نند نے ان جھوٹے فلسفیوں اور منطقیوں کی پیروی کی ہے جن کو دید سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وید کے در پردہ پکے دشمن تھے۔ اسی وجہ سے اس کے مذہب میں پر میشر کی وہ تعظیم نہیں جو ہونی چاہیے اور نہ پاک دل جو گیوں کی طرح پر میٹر سے ملنے کے لئے مجاہدات کی تعلیم ہے۔ صرف تعصب اور خدا کے پاک نبیوں کو کینہ اور گالیاں دینا ہی ی شخص بدنصیب اپنے چیلوں کو سکھا گیا ہے بلکہ یوں کہو کہ ایک زہر کا پیالہ پلا گیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہما ر اسب اعتراض دیانند کے فرضی ویدوں پر ہے نہ خدا کی کسی کتاب پر ۔ واللہ اعلم ۔ منہ