قادیان کے آریہ اور ہم — Page 417
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۳ تجليات البسه نہریں اس میں چل رہی ہیں لیکن بعض ہمارے مخالف جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اول تو یہ امواج غیبیہ اور ایک دریا اسرار الہیہ کا اُن کے الہامات میں نہیں ۔ اور خدائی طاقت اور شوکت اُن کو چھو بھی نہیں گئی۔ علاوہ اس کے وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہ الہامات اُن کے رحمانی ہیں یا شیطانی ہیں ۔ اسی وجہ سے اُن کا عام عقیدہ ﴿۲۷﴾ ہے کہ ان کے الہام امور ظنیہ میں سے ہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ ایسے القاء خدا سے ہیں یا شیطان سے۔ پس ایسے الہاموں پر فخر کرنا جائے شرم ہے جن میں اس قدر بھی چمک نہیں جس سے پتہ لگ سکے کہ وہ ضرور خدا کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے ۔ خدا پاک ہے اور شیطان پلید ہے۔ پس یہ عجیب الہام ہیں کہ ان سے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ پاک چشمہ سے نکلے ہیں یا پلید چشمہ سے اور دوسری مصیبت یہ کہ اگر کوئی کسی الہام کو خدا کا الہام سمجھ کر اس پر کار بند ہوا اور دراصل وہ شیطان کا الہام ہو تو وہ تو ہلاک ہو گیا یا اگر شیطان کا الہام سمجھ کر خدا کے الہام پر کار بند نہ ہوا تو وہ بھی ہلاکت کے گڑھے میں گرا تو یہ الہام کیا ہوئے ؟ ایک خوفناک مصیبت ہوئی جس کا انجام موت ہے اور نیز یہ اسلام پر بھی ایک داغ ہے کہ بنی اسرائیل میں تو ایسے یقینی الہام ہوتے تھے جن کی وجہ سے حضرت موسی کی ماں نے اپنے معصوم بچے کو دریا میں ڈال دیا اور اس الہام کی سچائی میں کچھ شک نہ کیا اور ظنی نہ سمجھا۔ اور خضر نے ایک بچہ کو قتل بھی کر دیا مگر اس اُمت مرحومہ کو وہ مرتبہ بھی نہ ملا جو بنی اسرائیل کی عورتوں کو مل گیا ۔ پھر اس آیت کے کیا معنے ہوئے کہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ۔ کیا انہیں ظنی الہاموں کا نام انعام ہے (۲) جو شیطان اور رحمن میں مشترک ہیں ۔ جائے شرم ۔ اور مذکورہ بالا سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے واقعات الفاتحة : 6