پُرانی تحریریں — Page 70
روحانی خزائن جلد ۲ ۵۸ سرمه چشم آرید تحریر کریں صفائی بیان کے لئے ایک مقدمہ لکھتے ہیں یہ مقدمہ درحقیقت اُسی مضمون کا لا حاشیه کا مجمع تھا سماج سمجھا ہو تا علت غائی سماجوں کی لکچر وغیرہ ہی ہوا کرتی تھی سو وہ تو اُس جگہ ایسی میسر تھی کہ جو سماج میں کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔ ماسوا اس کے جب ماسٹر صاحب نے بہت سا حصہ وقت کا صرف باتوں میں ہی ضائع کر کے پھر بہت سی سستی اور آہستگی سے جواب لکھنا شروع کیا تو اسی وقت ہم سمجھ گئے تھے کہ آپکی نیت میں خیر نہیں ہے اسی خیال سے اُنکو کہا گیا کہ بہتر یوں ہے کہ جو جو ورق آپ لکھتے جائیں وہ مجھے دیتے جائیں تا میں اُسکا جواب الجواب بھی لکھتا جاؤں اس انتظام سے دونوں فریق جلد تر فراغت کر لیں گے مگر انکا تو مطلب ہی اور تھا وہ کیونکر ایسے انصاف کی باتوں کو قبول کرتے سو انہوں نے انکار کیا اور لالہ رام چھمن صاحب اُنکے رفیق نے مجھے کہا کہ میں آپکی غرض کو سمجھ گیا۔ لیکن ماسٹر صاحب ایسا کرنا نہیں چاہتے چنانچہ وہی بات ہوئی اور اخیر پر نا تمام کام چھوڑ کر سماج کا عذر پیش ہو گیا اگر کوئی دنیا کا مقدمہ یا کام ہوتا تو ماسٹر صاحب ہزار دفعہ سماج کے وقت کو چھوڑ دیتے پر سچ تو یہ ہے کہ سماج کا عذر تو ایک بہانہ ہی تھا اصل موجب تو وہ گھبراہٹ تھی جو اعتراض کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے ماسٹر صاحب کے دل پر ایک عجیب کام کر رہی تھی ۔ اسی باعث سے پہلے ماسٹر صاحب نے باتوں میں وقت کھویا اور اعتراض کو سنتے ہوئے ایسے گھبرائے اور کچھ ایسے مبہوت سے ہو گئے کہ چہرہ پر پریشانی کے آثار ظاہر تھے اور نا کارہ عذرات پیش کر کے یہ چاہا کہ بغیر تحریری جواب اُٹھ کر چلے جائیں اسی وجہ سے لوگ تحریر جواب سے نا امید ہو کر متفرق ہو گئے اور بعض یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ اب کیا بیٹھیں اب تو بحث ختم ہو گئی آخر ماسٹر صاحب نے طوعاً و کر با حاضرین کی شرم سے کچھ لکھا جس کا آدھا دھڑ تو ماسٹر صاحب کے کاغذ پر اور آدھا اُن کے دل میں ہی رہا بہر حال وہ اپنے جواب کو اسی جان کندن میں چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ماسٹر صاحب کو اُٹھتے وقت میں نے یہ بھی