پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 548

پُرانی تحریریں — Page 67

روحانی خزائن جلد ۲ ۵۵ سرمه چشم آریہ میں دن کے وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور کے مکان پر ہوا اُس کی ے بھی کیفیت سنیے ۔ اوّل حسب قرارداد اس عاجز کی طرف سے ایک تحریری اعتراض پیش ہوا جس کا مطلب یہ تھا کہ خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور پھر اُسی کے التزام سے جاودانی نجات سے منکر رہنا جو آریہ سماج والوں کا اُصول ہے اس سے خدائے تعالیٰ کی توحید و رحمت دونوں دور ہوتی ہیں ۔ جب یہ اعتراض جلسہ عام میں سنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی جس کی کیفیت کو ماسٹر صاحب ہی کا جی جانتا ہوگا اور نیز وہ سب لوگ جو فہیم اور زیرک حاضر جلسہ تھے معلوم کر گئے ہوں گے ۔ ماسٹر صاحب کو اس وقت کچھ بھی سوجھتا نہیں تھا کہ اس کا کیا جواب دیں۔ سونا چار حیلہ جوئی کی غرض سے گھنٹہ سوا گھنٹہ کے عرصہ تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ سوال ایک نہیں ہے بلکہ دو ہیں تو اس کے جواب میں عرض کر دیا گیا کہ حقیقت میں سوال ایک ہی ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور مکتی میعادی اُسی خراب اصول کا ایک بداثر ہے جو اُس سے الگ نہیں ہو سکتا ۔ اس جہت سے دونوں ٹکڑے سوال کے حقیقت میں ایک ہی ہیں کیونکہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے منکر ہوگا اُس کے لئے ممکن نہیں کہ ہمیشہ کی نجات کا اقرار کر سکے سو انکار خالقیت بقیه حاشیه مولراج صاحب نقل نویں ۔ لالہ رام پچھمن صاحب ہیڈ ماسٹر لودھیانہ۔ بابو ہرکشن (۷) داس صاحب سیکنڈ ماسٹر ہوشیار پور ۔ اس جگہ مکر رلکھا جاتا ہے کہ میاں شتر گھن صاحب نے کئی بار ماسٹر صاحب کی خدمت میں التجا کی کہ آپ جواب الجواب کا جواب لکھنے دیں ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے ۔ ہمیں کسی نوع سے تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سننے کا شوق ہے ایسا ہی کئی ہندو صاحبوں نے یہ منشا ظاہر کیا مگر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسی مصلحت سوچی کہ کسی کی بات کو نہ مانا اور اُٹھ کر چلے گئے ۔ مؤلف