پُرانی تحریریں — Page 64
روحانی خزائن جلد ۲ ۵۲ سرمه چشم آرید (۳) اور اس کی قدرتوں کے نقش قدم ہیں۔ کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمہ خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چیکار کا تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھٹڑ کا نمک اس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر آن اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا یا تا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقد و دشوار کا خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا چشم مست ہر حسین ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رخ کافر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ انیم اغیار کا تیرے ملنے کیلئے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا بعد اس کے اور بعد صلوۃ و سلام بر نبی کریم خیر الانام محمد مصطفی احمد مجتبی خاتم المرسلین رحمۃ للعالمین اور اُس کی آل و اصحاب مطہرین و مهد بین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ عاجز مؤلف کتاب براہین احمد یہ خدمت میں طالبین حق کے گذارش کرتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ء کے مہینے میں جب کہ یہ عاجز بمقام ہوشیار پور مقیم تھا ۔ لالہ مُرلید ھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے جو آریہ سماج ہوشیار پور کے