پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 548

پُرانی تحریریں — Page 22

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲ پرانی تحریریں جو کچھ لکھا ہے افسوس ہے کہ میں اس سے اتفاق نہیں کر سکتا ہوں ۔ میرے اتفاق نہ کرنے کی جو جو وجوہات ہیں انہیں ذیل میں رقم کرتا ہوں۔ اوّل ۔ آپ کی اس دلیل میں (جس کو آپ لمی قرار دیتے ہیں ) علاوہ اس خیال کے کہ وہ الہام کے لئے جس کو آپ معلول تصور کرتے ہیں علت ہوسکتی ہے یا نہیں ایک صریحا غلطی ایسی پائی جاتی ہے کہ وہ واقعات کے خلاف ہے مثلاً آپ ارقام فرماتے ہیں کہ کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوما غلطی سے بچ سکیں ۔ اور یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے۔ اور صد ہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور لکھی باتیں اپنی نادانی کی یادگار چھوڑ گئے ۔“ اس سے کیا آپ کا یہ مطلب ہے۔ کہ انسان نے اپنی تحقیقات میں ہزاروں برس سے جو کچھ آج تک مغز زنی کی ہے اور ہاتھ پیر مارے ہیں اس میں بجز باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتوں کے کوئی صحیح خیال اور کوئی راست اور حق امر باقی نہیں چھوڑا گیا ہے؟ یا اب جو محقق نیچر کی تحقیقات میں مصروف ہیں وہ صرف ”نادانی کے ذخیرہ کو زیادہ کرتے ہیں اور حق امر پر پہنچنے سے قطعی مجبور ہیں ؟ اگر آپ ان سوالوں کا جواب نفی میں نہ دیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپ سینکڑوں علوم اور ان کے متعلق ہزاروں باتوں کی راست اور صحیح معلومات سے جس سے دنیا کی ہر ایک قوم کم و بیش مستفید ہو رہی ہے صریحاً انکار کرتے ہیں مگر میں یقین کرتا ہوں کہ شاید آپ کا یہ مطلب نہ ہو گا ۔ اور اس بیان سے غالباً آپ کی یہ مراد ہوگی که انسان سے اپنی تحقیقات اور معلومات میں سہو اور خطا کا ہو ناممکن ہے ۔ مگر یہ نہیں کہ نیچر نے انسان کو فی ذاتہ ایسا بنایا ہے کہ جس سے وہ کوئی معلومات صحت کے ساتھ حاصل ہی نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے اشخاص آپ نے خود دیکھے اور سنے ہوں گے اور نیز تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر پڑھا ہوگا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں اگر چہ آپ کے نزدیک سہو اور خطا