پیغام صلح — Page 483
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۸۳ یادداشتیں لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے ۔ اور سب نے اُس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے ۔ اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہوسکتی ہے۔ اسی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کر کے فرماتا ہے۔ وَدَاعِيًّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا انسان تو اپنی جان کا بھی مالک نہیں چہ جائیکہ وہ دولت کا مالک ہو۔ ایک چمچہ (1) شربت کا مزہ نہیں پاسکتا۔ اگر چہ کئی بار اس میں پڑتا ہے۔ شیرینی ہاتھوں کے ذریعہ سے منہ تک پہنچتی ہے لیکن ہاتھ شیرینی کا مزہ نہیں پاسکتے اسی طرح جس کو خدا نے حواس نہیں دیئے وہ ذریعہ بن کر بھی کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتا ۔ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ صُمٌّ بُكْمٌ عُلَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ایک بڑی لذت چھوٹی لذت سے غنی کر دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَيِنُ الْقُلُوبُ - وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ (۱) ایمان بیج ہے۔ (۲) نیک کام مینہ ہے (۳) مجاہدات ہل ہیں جو جسمانی اور ظاہری طور پر کئے جاتے ہیں۔ نفس مرتاض بیل ہے جونفس لوامہ ہے ۔ شریعت اس کے چلانے کے لئے ڈنڈا ہے اور وہ اناج جو اس سے پیدا ہوتا ہے ۔ وہ دائمی زندگی ہے۔ ذات سے خارج وہ ہوتا ہے جو نیک صفات سے خالی ہو کیونکہ انسان کی نیک صفات ہی اُس کی ذات ہے۔ اپنے دل کے جذبات کو سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں وہ جن چیزوں میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ خوشحالی کا موجب ہی ہوتیں ۔ جو شخص بدی کے مقابل پر بری نہیں کرتا اور معاف کرتا ہے وہ بلا شبہ تعریف کے لائق ہے مگر اس سے زیادہ وہ شخص تعریف کے لائق ہے جو الاحزاب: ۴۷ الانعام : ۱۲۵ البقرة : ١٩ الرعد : ٢٩ العنكبوت : ۴۶