پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 567

پیغام صلح — Page 458

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۸ پیغام صلح مگر وہ دلی صفائی جس کو درحقیقت صفائی کہنا چاہیے۔صرف اسی حالت میں پیدا ہوگی جب کہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو بچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کر لو گے اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دور کر کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرلیں گے یا درکھو اور خوب یا د رکھو کہ تم میں اور ہندو صاحبوں میں بچی صلح کرانے والا صرف یہی ایک اصول اور یہی ایک ایسا پانی ہے جو کدورتوں کو دھو دے گا اور اگر وہ دن آگئے ہیں کہ یہ دونوں بچھڑی ہوئی قومیں باہم مل جائیں تو خدا اُن کے دلوں کو بھی اس بات کے لئے کھول دے گا جس کے لئے ہمارا دل کھول دیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ضرور ہوگا کہ ہند و صاحبان کے ساتھ سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ اور سلوک اور مروت اپنی عادت کرو۔ اور ایسے کاموں سے اپنے تئیں باز رکھو جن سے اُن کو دکھ پہنچے مگر وہ کام ہمارے مذہب میں نہ واجبات سے ہوں اور نہ فرائض مذہب سے۔ پس اگر ہند و صاحبان اپنے صدق دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مان لیں اور ان پر ایمان لاویں تو یہ تفرقہ کہ جو گائے کی وجہ سے ہے اس کو بھی درمیان سے اٹھا دیا جائے۔ جس چیز کو ہم حلال جانتے ہیں ہم پر واجب نہیں کہ ضرور اس کو استعمال بھی کریں۔ بہتیری ایسی چیزیں ہیں کہ ہم حلال تو جانتے ہیں مگر کبھی ہم نے استعمال نہیں کیں۔ ان سے سلوک اور احسان کے ساتھ پیش آنا ہمارے دین کی وصایا میں سے ایک وصیت ہے۔ خدا کو واحد لاشریک جاننا۔ پس ایک ضروری اور مفید کام کے لئے غیر ضروری کو ترک کرنا خدا کی شریعت کے مخالف نہیں ۔ حلال جاننا اور چیز ہے اور استعمال کرنا اور چیز ۔ دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پر ہیز کرنا اور اس کی رضا مندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور