پیغام صلح — Page 434
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۴ چشمه معرفت یا در ہے کہ اگر انسان اپنے جھوٹے فلسفہ اور منطق کا شیفتہ ہوکر خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کی نسبت اس طرز سے تحقیقات کرنا چاہے جس طرز سے مخلوقات کے وجود کی تحقیقات کی جاتی ہے تو پھر وہ اس گرداب سے ہرگز سلامت نہیں نکلے گا بلکہ کسی مرحلہ پر جا کر ضرور ہلاک ہو گا۔ مثلاً وہ سوچے گا کہ خدا نے یہ بنایا اور یہ بنایا تو اُس کے دل میں سوال پیدا ہوگا کہ خدا کو کس نے بنایا اور ایسا ہی اُس کے دل میں گمراہ کرنے والے بہت سے سوال پیدا ہوں گے مثلاً یہ کہ وہ کہاں ہے اور کیوں دکھائی نہیں دیتا اور ان سوالوں کے بیچ میں آکر اس کا ایمان ایسا پیسا جائے گا جیسا کہ چکی میں پڑ کر دانہ پیسا جاتا ہے بلکہ جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کی یہ طرز نہیں ہے جس طرز کو دوسری قوموں نے اختیار کیا ہے اور اس بیجا دخل کا ہمیشہ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یا تو ایسے لوگ آخر کار دہریہ بن گئے ہیں کیونکہ خدا کے وجود اور اُس کی صفات کی عقلی طور پر تشریح معلوم کرنے کے لئے جن باتوں پر انہوں نے بھروسہ کیا تھا وہ باتیں اُن کے دلوں کو کامل تسلی نہ دے سکیں آخر اپنے دلائل کو نا کافی سمجھ کر خدا کے وجود سے ہی منکر ہو گئے اسی وجہ سے یہ فرقہ ناستک مت کا آریہ ورت میں سب ملکوں سے زیادہ اور بکثرت پایا جاتا ہے اور بعض ایسے فرقے اسی وجہ سے پیدا ہو گئے کہ انہوں نے اپنے دلوں کو تسلی دینے کے لئے اور چیزوں کو بمنزلہ خدا کے بنالیا پس آریہ ورت میں جس قد ر ایسی تو میں پیدا ہوگئیں کہ وہ سورج اور چاند اور آگ اور پانی اور پتھروں وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں وہ پرستش در اصل اسی گھبراہٹ کا ایک نتیجہ ہے۔ اگر یہ بے جادخل خدا کی ذات اور صفات میں نہ دیا جاتا تو یہ فرقے بہت کم پیدا ہوتے ۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خدا کے وجود کی ایک ڈاکٹریا جراح کی طرح تشریح کرنا نا جائز قرار دیا ہے اور فرمایا کہ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (٢٨) وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ا یعنی جس طرح خدا کی ذات انسان کے علم اور فہم سے برتر الانعام : ۱۰۴