نزول المسیح — Page 641
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۷ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے خوبصورت تریاق دکھاتے ہیں وہ اسلام کے لئے اور خدا کی مخلوق کیلئے سخت بد خواہ ہیں اور ان کے دل رحم اور ہمدردی سے خالی ہیں مگر اپنے تئیں چھپاتے ہیں۔ وہ مکاری سے وعظ کرتے اور اپنی نفسانی اغراض مد نظر رکھتے ہیں۔ وہ زاہدانہ لباسوں میں مسجدوں میں آتے مگر فاسقانہ عادتیں ان کی چھپی ہوئی ہیں ۔ یہ ایک ملک کی حالت نہیں ہے اور نہ کسی خاص شہر کی نہ کسی خاص فرقہ کی بلکہ تمام اسلامی دنیا میں ایک گروہ ایسا ہے جو علماء کہلاتے اور مولویا نہ جیتے پہنتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہے اپنی صورتیں متدین لوگوں کی طرح بناتے ہیں تا ان کو بہت بزرگ اور مقدس سمجھا جائے مگر ان کے اعمال گواہی دیتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور کس سیرت کے انسان ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ دنیا میں کچی پاکیزگی اور سچی ہمدردی پھیلے کیونکہ اس میں وہ اپنا نقصان کرتے ہیں۔ غرض آج کل اسلام بڑی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔ اکثر روحیں مرگئی ہیں ان میں نیکی کی طرف ذرہ حرکت نہیں۔ اعتدال کو ان لوگوں نے یک لخت چھوڑ دیا ہے۔ ان میں ایک وہ گروہ ہے جو قبروں کی پوجا کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کی طرح ان کا طواف بجالاتے ہیں ۔اور اپنے پیروں کی روحوں کو ایسا قادر اور متصرف جانتے کہ گویا سب کچھ ان کو خدا کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے۔ اکثر گدیاں ایسی ہی پاؤ گے جن کے ساتھ قبر بھی ہے جن کی وہ اپنے مریدوں سے پوجا کراتے ہیں اور اگر کوئی ان سے کرامت کا طالب ہوتا ہے تو صاحب قبر کی ہزاروں کرامتیں سنا دیتے ہیں اور ثبوت ایک کا بھی نہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کا مغز قبر پرستی ہے اور تمام دوسرے مسلمانوں کو وہ گمراہ جانتے ہیں۔ یہ تو وہ فریق ہے جس نے افراط کی راہ لی ہے۔ ان کے مقابل پر ایک تفریط کا گروہ بھی موجود ہے اور وہ انکار کرنے میں حد سے گزر گئے ہیں یہاں تک کہ ولایت تو ولایت ان کے نزدیک نبوت بھی کچھ چیز نہیں ۔ معجزات سے وہ قطعاً منکر ہیں اور ان پر ہنسی اور ٹھٹھا اڑاتے ہیں اور وحی کی یہ تعبیر کرتے ہیں