نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 609 of 822

نزول المسیح — Page 609

روحانی خزائن جلد ۱۸ نزول المسيح بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۰۶ تاریخ بیان تاریخ ظہور پیشگوئی نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں ہیں متعلق اپنے لئے اور نیز اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور چاہتا ہوں کہ ایسا ہی ہو جائے پھر تمثل کے طور پر میں نے خدا تعالی بے مثل وبے مانند کو دیکھا اور وہ کاغذ حضرت جل شانہ کے آگے رکھ دیا تا اس پر دستخط کر دے تا وہ سب باتیں جن کے لئے درخواست کی گئی ہے ہو جائیں خدا تعالیٰ نے اس پر سرخی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑ دیا اور جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے اور میاں عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے میں نے ان قطروں کو بچشم خود دیکھا اور میں اس وقت اس خیال سے کہ خدا نے میرے تجویز کردہ احکام پر دستخط کر دئے چشم پر آب تھا۔ اور ایک رقت میرے دل پر طاری تھی اتنے میں میاں عبد اللہ نے یہ کہہ کر کہ یہ کہاں سے سرخ قطرے ہمارے پر پڑے مجھے اس حالت سے جگا دیا اور میں نے اپنے کر تہ اور اس کی ٹوپی پر سرخ اور تر قطرے دیکھے جو بھی خشک نہیں ہوئے تھے اور تمام حال اس کشف کا سنایا اور اس وقت ہم دونوں نے ادھر ادھر خوب تلاش کر کے دیکھا مگر کوئی چیز ایسی نظر نہ پڑی جس سے ان قطروں کے گرنے کا گمان ہو سکے تب میاں عبداللہ کو بھی یقین ہوا کہ یہ سرخ قطرے معجزے کے طور پر ہیں ۔ بعض کپڑے اب تک میاں عبد اللہ کے پاس موجود ہیں اور وہ خدا کے فضل و کرم سے غوث گڑھ علاقہ پٹیالہ میں زندہ موجود ہیں اور اس کیفیت کو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور یہ بات کہ یہ سرخ قطرے کس بات کی طرف اشارہ اس کے گواہ میاں عبداللہ سنوری اور دیگر بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اس موقعہ زنده گواه پر اس گڑ نہ کو دیکھا۔