نزول المسیح — Page 539
۱۵۷ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۵ ۵۳۵ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی کی خارق عادت پیشگویاں جو نیا پرظاہر ہوچکیں محمد بخش طاعون سے مرا۔ تینوں مولوی لدھیانہ کے ہلاک کئے گئے ۔ محمد حسن بھیں ہلاک کیا گیا۔ غلام دستگیر قصوری ہلاک کیا گیا۔ محی الدین لکھو کے والا ہلاک کیا گیا۔ اور اصغرعلی کی ایک آنکھ جاتی رہی اور مولوی محمد حسین عفر کی دعا کے نیچے آ گیا کیونکہ عفر لغت عرب میں خاک آلودہ کرنے کو کہتے ہیں۔ سودہ تکفیر کی جمعداری سے بحکم حاکم روکا گیا اور زمینداری کی گرد و غبار میں آلودہ کیا گیا کیونکہ خاک میں غلطاں پیچاں ہونا لوازم زمینداری میں سے ہے۔ وجہ یہ کہ ہر وقت خاک سے ہی کام پڑتا ہے۔ اس قدر تو وقوع میں آگیا ابھی معلوم نہیں کہ اس کا حصہ اور کس قدر باقی ہے۔ پیشگوئی نمبر ۳۶ زندہ گواہ رویت کے लक کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے ۳۸ تک بذریعہ الہام الہی طاعون کی خبر دی گئی ہے جو چھ برس بعد ظہور میں آئی ۔ صفحہ ۳۵ میں یہ عبارت ہے۔ اِعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ نَفَتْ فِي رَوْعِى إِنَّ هذَا الْخَسوف والكسوف فِي رَمَضَانَ ايَتَانِ مخوفتان لِقَوْمِ اتَّبَعُوا الشَّيْطَان۔۔۔۔۔۔ وَلَئِنُ اَبُوا فَإِنَّ الْعَذَابَ قَدْحَان ترجمہ ۔ خدا نے اپنے الہام کے ساتھ میرے دل میں پھونکا ہے کہ خسوف کسوف ایک عذاب کا مقدمہ ہے یعنی طاعون کا جو قریب ہے۔ پیشگوئی نمبر ۳۵ کا ثبوت گذر چکا ہے وہی ثبوت پیشگوئی نمبر ۳۶ کا ہے۔ نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی طاعون کے دنوں میں 3