نزول المسیح — Page 517
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۱۳ نزول المسيح تاریخ بیان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور ۱۳۵ که نمبر شمار پیشگوئی پیشگوئی نمبر۱۷ ۱۸۸۰۹۸۲ء زندہ گواہ رویت کے پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں ایک شخص نوراحمد نام مولوی غلام علی صاحب امرتسری کے شاگردوں میں سے قادیان میں آیا اور اس سے منکر تھا کہ اس امت کے بعض افراد خدا تعالیٰ سے کچی اور یقینی وحی پاسکتے ہیں ۔ اس کو یہ کہ کر ٹھہرایا گیا کہ ہم دعا کرتے ہیں شائد اللہ تعالی کوئی ایسا الہام کرے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہو۔ سو دعا منظور ہو کر یہ الہام حکایتا عن الغير انگریزی میں ہوا آئی ایم گوزلر یعنی میں مقدمہ کرنے والا ہوں اور جھگڑنے والا ہوں اور ساتھ ہی یہ الہام ہوا هذا شاهد نزاغ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۷۲ ۔ یعنی یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے اور تفہیم کی گئی ہے کہ کسی کا مقدمہ ہے اور وہ مجھے گواہ بنانا چاہتا ہے یہ تمام مراتب میاں نوراحمد کوقبل از ظهور پیشگوئی سنائے گئے اس دن حافظ نور احمد امرت سر جانے کو تیار تھا بارش ہوئی اور وہ روک لیا گیا۔ شام کو اس کے روبرو رجب علی نام اڈیٹر مطبع سفیر ہند کا امرتسر سے خط آیا اور ساتھ ہی ایک سمن شہادت میرے نام آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری رجب علی نے مجھے اپنا گواہ لکھوایا ہے ۔ اور دعوئی صحیح تھا اور میری شہادت موجب تباہی مدعا علیہ تھی یہی معنے پیشگوئی یہ پیشگوئی فجر کو بیان کی گئی اور تیسرے پہر پوری ہوگئی دن روپیہ ضرور آئیگا اور اس دن کسی مجبوری سے امرتسر بھی جانا پڑے گا کیا ایسی پیشگوئیوں پر انسان بھی قادر ہوسکتا ہے اور اس سے زبر دست اور کیا ثبوت ہوگا کہ آریہ جو دین کے پکے دشمن ہیں اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔ منجملہ ان کے لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل ساکنان قادیان جواب تک زندہ موجود ہیں اس نشان سے خوب واقف ہیں ان کے لئے بڑی مصیبت ہے کہ اسلام کی گواہی دیں لیکن اگر یہ مقام براہین احمدیہ کا ان کو دکھلایا جاوے اور ان کی اولاد کی ان کو قسم دی جاوے کیونکہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں تو ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں کیا دعا قبول ہو کر پھر خدا کا پیشگوئی کرنا اور اپنی تائید دکھلانا اور امرتسر جانے کا نشان ساتھ رکھنا یہ مجوزہ نہیں۔ اور پیشگوئی نمبرے اکا حافظ نور احمد اور حافظ حامد علی وغیر ہ گواہ ہیں۔