نزول المسیح — Page 418
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۴ نزول المسيح اسی وجہ سے کافر کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے یہودیوں کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف رائے ظاہر کی۔ اور عجیب تریہ بات ہے کہ ہمارے مخالف قطع نظر اس سے جو ہماری دعوت کو مان لیں وہ اپنا ذخیرہ ظنون شکوک کا ہمیں منوانا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اس خدا سے بالکل بے خبر ہیں جس سے نجات ملتی ہے۔ جس حالت میں خدا نے ہم پر فضل کر کے ہمیں اپنی طرف سے نور بخشا جس نور سے ہم نے اُس کو پہچانا اور ہمیں نشان عطا فرمائے جن نشانوں سے ہم نے اُس کی ہستی اور صفات کا ملہ پر یقین کر لیا تو کیونکر ہم اس نو ر اور معرفت اور یقین کو اپنے آپ سے دُور کر دیں۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں اور خدا ہمارے اس قول پر گواہ ہے کہ اگر چہ خدائے تعالیٰ کی ہستی اور اسلام کی سچائی کا یقین قرآن کے ذریعہ سے ہمارے پاس آیا مگر خدا نے اپنی وحی تازہ کے ذریعہ سے ہمیں اپنی خاص چپکاریں دکھلائیں یہاں تک کہ ہم نے اُس خدا کو دیکھ لیا جس سے ایک دنیا غافل ہے۔ اس کے دلکش نشانوں نے جو میرے علم میں ہزاروں تک پہنچ گئے گو دنیا کو ابھی صرف ڈیڑھ سو نشان سے اطلاع ہوئی مجھ میں وہ یقین اور بصیرت اور معرفت کا نور پیدا کیا جو مجھے اس تاریک دنیا سے ہزاروں کوس دُور تر کھینچ کر لے گیا اب اگر چہ میں دنیا میں ہوں مگر دنیا میں سے نہیں ہوں ۔ اگر دنیا مجھے نہیں پہچانتی تو کچھ تعجب نہیں کیونکہ ہر ایک چیز جو بہت دور اور بہت بلند ہے اس کا پہچاننا مشکل ہے۔ میں کبھی امید نہیں کرتا کہ دنیا مجھ سے محبت کرے کیونکہ دنیا نے کبھی کسی راستباز سے محبت نہیں کی۔ مجھے اس سے خوشی ہے کہ مجھے گالیاں دی گئیں دجال کہا گیا کا فرٹھہرایا گیا کیونکہ سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہہ کر مغضوب علیہم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے ۔ اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منعم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں ۔سورۃ فاتحہ کا اعلیٰ مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور اُن کی