نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 822

نزول المسیح — Page 407

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۰۳ نزول المسيح دعا مانگنے میں ست ہے وہ متکبر ہے کیونکہ قوتوں اور قدرتوں کے سرچشمہ کو اُس نے شناخت نہیں کیا اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھا ہے۔ سو تم اے عزیز وان تمام باتوں کو یا درکھو ایسا نہ ہو کہ تم کسی پہلو سے خدا تعالیٰ کی نظر میں متکبر ٹھہر جاؤ اور تم کوخبر نہ ہو۔ ایک شخص جو اپنے ایک بھائی کے ایک غلط لفظ کی تکبر کے ساتھ تصحیح کرتا ہے اُس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک غریب بھائی جو اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو دعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جوخدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہوتا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔ خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اُس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈرسکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔ پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔ اب ہم پھر اپنے پہلے بیان کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ طاعون کے بارے میں پیشگوئی صرف براہین احمدیہ میں ہی نہیں بلکہ براہین کے زمانہ سے جس کو بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا۔ اس زمانہ تک جس قدر کتابیں تالیف ہوئی ہیں یا اشتہار شائع ہوئے ہیں اکثر میں یہ پیشگوئی موجود ہے چنانچہ آج سے آٹھ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہ نور الحق میں جو عربی رسالہ ہے اس کے صفحہ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ میں کی گئی (۲۶) ہے اور پھر آج سے پانچ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہ سراج منیر کے صفحہ ۵۹ و ۶۰ میں