نورالحق حصہ دوم — Page 200
۲۰۰ نور الحق الحصة الثانية روحانی خزائن جلد ۸ من فطنة خامدة وروية ناضبة، فكيف يصدر من فارس ذلك الميدان، سے بھی صادر نہیں ہو سکتی پس کیونکر اس سے صادر ہو جو فصاحت کے میدان کا سوار ہے بل سيد الفرسان؟ ما لكم لا تنظرون عزّةَ الله ورسوله يا معشر بلکہ سواروں کا سردار ہے تمہیں کیا ہو گیا جو تم اللہ اور رسول کی عزت کو نہیں دیکھتے اے دلیری کرنے والوں المجترئين؟ أبخُلُكم أحبُّ إليكم وأعزُّ لديكم من خاتم النبيين؟ ألا کے گرو ہو کیا تمہارا بخل تمہیں بہت پیارا اور عزیز ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ پیار نہیں۔ کیا تعرفون أن هذا اللفظ في هذا المحل منكر مجهول لا يُعرف استعماله | تم نہیں پہچانتے کہ یہ لفظ اس محل میں خلاف محاورہ اور مجہول ہے اور اہل زبان کے کلمات میں اس کا استعمال ثابت في كلمات أهل اللسان، وما أورده قط بليغ ولا غير بليغ في موارد نہیں اور کسی بلیغ غیر بلیغ کی عبارت میں لفظ پایا نہیں گیا اور کسی غمی رطب یابس جمع البيان، وما أخذه عند اضطرارٍ غبى حاطب ليل، فكيف سلطان الفصاحة کرنے والے نے بھی اضطرار کے وقت اس لفظ کو نہیں لکھا پس کس طرح اس کی زبان پر جاری ہوتا جو وسيد خيل؟ وقد سُبِرَ بذلك غورُ عقلكم ومقدار نقلكم ومبلغ علمكم | سلطان الفصاحت اور سپہ سالار ہے اور اس لفظ سے تمہاری عقلیں آزمائی گئیں اور تمہاری نقل وفضلكم وحقيقة أدبكم وحديقة حَدَبِكم، فإنكم عزوتم إلى سيد الأنبياء | کا اندازہ ہو گیا اور تمہارا ندازہ علم اور فضل اور حقیقت ادب اور تمہاری اونچی زمین کے باغ کی حقیقت سب کھل ۔ ما لا تُعزى إلى جهول من الجهلاء ، تكاد السماوات تنشق من هذا گئی کیونکہ تم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس چیز کو نسبت دی جو کسی جاہل سے جاہل کی طرف منسوب نہیں کر سکتے الاجتراء ، فاتقوا الله ذا الكبرياء ، ولبوا دعوة الحق تلبية أهل الاهتداء ، قریب ہے جو اس شوخی اور جرات کی شامت سے آسمان پھٹ جائیں سو تم خدائے بزرگ سے ڈرو اور حق کی دعوت قبول کرو قد وقع واقع فلا تميلوا إلى المراء واتبعوا قول النبى الذى إشارته حُكم جیسا کہ ہدایت یافتہ لوگ قبول کرتے ہیں جو نشان ظاہر ہونا تھا ہو چکا اب تم جھگڑے کی طرف مت جھکو اور اس نبی صلعم کی