نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 51

روحانی خزائن جلد ۸ ۵۱ نور الحق الحصة الاولى وفي ضلال مبين۔ فتندّمَ غاية التندّم ، واضطر كمذبوح واعتاص الأمر اور کھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔ پس شخص نہایت ہی شرمندہ ہوا اور ایسا بے قرار ہوا جیسا کہ کوئی ذبح کیا جاتا ہے اور اس پر کام عليه، فما رأى طريقا يُرضى به قومه إلا طريق البهتانات، فاختاره ليستر مشکل ہو گیا پس اس کو کوئی ایسا راہ نہ مل سکا جس سے وہ اپنی قوم کو راضی کر سکتا مگر ایک بہتان کا طریق کھلا تھا سو اس کو اس نے غواره بتلك المفتريات۔ فأُشرِبَ في قلبه أن يستمد بوشائه من أهل دروغ آراسته ۱۲ اختیار کر لیا تا وہ ان مفتریات سے اپنی پردہ پوشی کرے سو اس کے دل میں یہ خیال رچ گیا کہ سرکار انگریزی کے حکام اور اہل الحكومة والولاية، ويريش بكلمات الشر نَبلَ السعاية، لعلهم يصلبونني حکومت سے بذریعہ اپنی جھوٹی مخبری کے اس کام میں مدد یوے اور اپنی سخن چینی کے تیر سے شرارت کی باتوں کو پر لگاوے تا کہ أو يقتلونني، ويعلو أمر قوم متنصرين۔ فمنشاء تحريراته هذه الخطرات | حکام مجھ کو پھانسی دے دیں یا قتل کر دیں اور اس طرح سے یہ کر ھٹان لوگ غالب آجائیں۔ سواصل موجب اس کی تحریرات کا المنسوجات لا غيرها، وما اختار هذا إلا لعدم علمه بمراحم الدولة یہ دلی منصوبے ہیں کوئی اور سبب نہیں اور اس نے اس راہ کو محض اس سبب سے اختیار کیا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس گورنمنٹ علينا وحقوق مخزونة لديها ولدينا ۔ وقد تهادينا بأمور تزيد الوفاق، کی کیسی مہربانیاں ہم پر ہیں اور کیسے باہمی حق ان کے پاس اور ہمارے پاس ہیں اور ہم نے ایسے امور ایک دوسرے کو بطور وتخرج من القلوب النفاق۔ فليس على سمائنا الغمام ليعزوه إلى ظلام ہدیہ دیئے ہیں جو موافقت کو زیادہ کرتے ہیں اور نفاق کو دور کرتے ہیں سو ہمارے آسمان پر کوئی بادل نہیں تا کوئی نکتہ چین اس کو النمام، وليس فى كنانتنا مرماة واحدة لنخاف المناضلين۔ وما رأى هذا اندھیرے کی طرف منسوب کرے اور ہمارے ترکش میں صرف ایک ہی تیر نہیں تاہم مخالف تیراندازوں سے ڈریں۔ اور اس المتجنّى الغبي أن الدولة البرطانية فهيمة مدبّرة تعرف كل كلمة وما (٣٨) خطا جو غیبی نے یہ بھی نہ سوچا کہ سرکار انگریزی ایک فہیم اور مد بر گورنمنٹ ہے ایسی کہ ہر یک کلمہ کو اور جو کچھ اس کے نیچے ہے تحتها، وتفهم كل افتراء وأهله، ولا تتبع رأى كل قَتَاتٍ ضَنين۔ فما كان پہچان لیتی ہے اور ہر یک افترا اور اس کے اہل کو سمجھ جاتی ہے اور ہر ایک نکتہ چین بخیل کی رائے کے پیچھے نہیں لگ جاتی پس