نورالحق حصہ اوّل — Page 42
۴۲ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى وخليله محمد المصطفى صلعم قد أمرنا أن نثنى على المنعمين، ونشكر اور اس کا دوست محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں جن کے ہم نعمت پروردہ المحسنين، فلأجل ذلك شكرتها ونصرتها ما استطعتُ، وبثثتُ مِنَنَها ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو پس اسی وجہ سے میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک وأشعتها في كل بلدة من ملكنا المعلوم إلى بلاد العرب والروم، وحققت بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلا د عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس الناس على إطاعتها۔ ومن كان في شك فليرجع إلى كتابي البراهين، وإن کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے (۳۱) لم يكفِ لِشَكّه فلينظر كتابي التبليغ، وإن لم يطمئن فليقرأ كتابى الحمامة، شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر وإن بقى مع ذلك شک فلیفگر فی کتابی الشهادة، وليس حرام عليه أن میری کتاب حمامة البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن میں غور ينظر في هذه الرسالة أيضا ليتضح عليه كيف أعلنتُ بصوت عال في منع کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے تا کہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا الجهاد والخروج على هذه الدولة وتخطية المجاهدين۔ ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جولوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ خطا پر ہیں ۔ فلو كنتُ عدوًّا لهذه الدولة لفعلتُ أفعالا خلاف ذلك، وما پس اگر میں اس گورنمنٹ کا دشمن ہوتا تو میں ایسے کام کرتا جو میری اس کا رروائی کے مخالف ہوتے اور أرسلتُ هذه الكتب وهذه الاشتهارات إلى ديار العرب وبلاد إسلامية | کتابیں اور اشتہار بلاد عرب اور تمام بلاد اسلامیہ کی طرف روانہ وما قدمت قدمي لهذه النصائح۔ فانظروا يا أولى الأبصار، لِمَ فعلتُ نہ کرتا اور ان نصیحتوں کے لئے آگے قدم نہ اٹھاتا۔ پس اے آنکھوں والو! تم سوچو کہ میں نے یہ کام کیوں