نورالحق حصہ اوّل — Page 40
۴۰ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ و أهديها إلى الربّ الذى هو خالق الأنام، فإنّها أحسنَتْ إلينا وإلى اور اس رب کی طرف سے اس کو راہنمائی کروں جو درحقیقت مخلوقات کا رب ہے کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے آبائنا، وما كان جزاء الإحسان إلا أن ندعو لها في الدنيا دعاء الخير باپ دادوں پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور والإقبال وفوز المرام، ونسأل الله لعقباها أن تُرزق توحيد الإسلام اقبال کے لئے دعا کریں اور اس کے عقبی کے لئے خدا تعالیٰ سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے وتنتهج سبل الحق وتؤمن بعظمة المليك العلام، وتعرف الرب الذي نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور اس رب کو أحدٌ صمد ما ولد وما وُلِد، وتعطى نعماء أبد الآبدين۔ پہچانے جوا کیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں ۔ فألفتُ كُتبًا وحرّرتُ فى كل كتاب أن الدولة البريطانية محسنة سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہر یک کتاب میں میں نے لکھا کہ دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے إلى مسلمي الهند وتنتجعها ذرارى المسلمين، فلا يجوز لأحد منهم أن اور مسلمانوں کی اولاد کی ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان میں سے جائز نہیں جو اس پر يخرج عليها ويسطو كالباغين العاصين، بل وجب عليهم شكر هذه خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو بلکہ ان پر اس گورنمنٹ کا شکر واجب ہے اور الدولة وإطاعتها في المعروف، فإنها تحمى دماء هم وأموالهم وتحفظهم اور اس کی اطاعت ضروری ہے کیونکہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ۔ ہے من سطوة كل ظالم، وقد نجتنا من أنواع الكروب وارتجاف القلوب، ہریک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور درحقیقت ہمیں اسی نے بے قراریوں اور دل کے لرزوں فإن لم نشكر فكنا ظالمين۔ فالشكر واجب علينا دينا وديانة، ومن سے بچایا سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پر از روئے دین و دیانت کے واجب ہے اور جو شخص