نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 22

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۲ نور الحق الحصة الاولى طرابلس سے اور وتفصيل ذلك أن شابا صالحا وَسِمًا جاء ني من بلاد الشام، اور اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ بلاد شام سے ایک جوان صالح خوش رو میرے پاس آیا یعنی أعنى من طرابلس، وقاده الحكيم العليم إلى ولبث عندى إلى سبعة | ر حکیم و علیم اس کو میری طرف کھینچ لایا اور قریب سات مہینے کے أشهر، أعنى إلى هذا الوقت، فتوسّمتُ فيه الخير والرشد، ووجدت | یعنی اس وقت تک میرے پاس رہا اور میں نے فراست سے اس کے وجود کو باخیر دیکھا اور اس میں رشد پایا اور في ميسمه أنوار الصلاح، ورأيت فيه سمة الصالحين۔ ثم أمعنت في اس کے چہرہ میں صلاحیت کے انوار پائے اور صلحاء کے نشان پائے۔ پھر میں نے اس کے حال اور قال حاله وقاله وتفحصت من ظاهره وباطن أحواله بنور أعطى لى وإلهام میں غور کی اور اس کے ظاہر اور باطن میں تشخص کیا اور اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا قذف فی قلبی، فآنست حسن تقاته ورزانة حصاته، ووجدته رجلًا جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے سو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقلی اس کو حاصل ہے اور آدمی صالحًا تقيّا راكلا على جذبات النفس وطاردها ومن المرتاضين۔ ثم نیک بخت ہے جس نے جذبات نفس پر لات ماری اور ان کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔ پھر أعطاه الله حظا من معرفتى فدخل في المبايعين۔ وقد انفتح عليه باب خدا نے اس کو کچھ حصہ میری شناخت کا عطا کیا سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے ہماری عجيب من معارفنا وألف كتابا وسماه إيقاظ الناس، وهو دليل معرفت کی باتوں میں سے ایک عجیب دروازہ اس پر کھول دیا اور اس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس واضح على سعة عمله، وحجة منيرة على إصابة رأيه، ويكفى لكل رکھا اور وہ کتاب اس کے وسعت معلومات پر دلیل واضح ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجت ہے اور وہ کتاب مُمار فى مضمار ۔ ولما أفضى فى تأليف ذلك الكتاب ۔ جمع۔ عنده ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے اور جب اس نے اس کتاب کا تالیف کرنا شروع کیا تو بہت سی