نورالحق حصہ اوّل — Page 194
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۹۴ نور الحق الحصة الثانية وتُبشرون مِن سيّد الرسل نورِ الله مُزيل الظلام أعنى خسوف النَّيِّرين اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی في شهر رمضان الذى أنزل فيه القرآن، قد ظهر في بلادنا بفضل الله رمضان شریف میں آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا وہ نشان المنان، وقد انخسف القمر والشمس وظهرت الآيتان، فاشكروا الله ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر ہو گیا اور چاند اور سورج کا گرہن ہوا اور دو نشان ظاہر ہوئے وخروا له ساجدين۔ پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گرو۔ وإنّـكـم قـد عــرفتـم أن الله تعالى قد أخبر عن هذا النبأ اور تمہیں معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس واقعہ عظیمہ کے بارے میں العظيم في كتابه الكريم، وقال للتعليم والتفهيم فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ اپنی کتاب کریم میں خبر دی ہے اور سمجھانے اور جتلانے کے لئے فرمایا ہے پس جس وقت آنکھیں پتھرا جائیں گی اور وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَبِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ۔ چاند گرہن ہو گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں گے یعنی سورج کو بھی گرہن لگے گا تب اس روز فتفكروا في هذه الآية بقلب أسلم وأطهر، فإنه من آثار القيامة لا انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے۔ سو اس نشان میں ایک سلیم اور پاک دل کے ساتھ فکر کرو من أخبار القيامة كما هو أجلى وأظهر عند العاقلين۔ فإن القيامة | کیونکہ یہ خبر قیامت کے آثار میں سے ہے قیامت کے واقعات میں سے نہیں ہو سکتی جیسا کہ عقلمندوں کے نزدیک نہایت عبارة عن فساد نظام هذا العالم الأصغر وخلق العالم الأكبر، صاف اور روشن ہے۔ وجہ یہ کہ قیامت اس حال سے مراد ہے جبکہ اس عالم اصغر کا نظام توڑ دیا جائے اور ایک عالم اکبر فكيف يقع في حالة الفك الخسوف الذى تعرفون پیدا کیا جائے پس کیونکر فک نظام کی حالت میں وہ خسوف کسوف ہو سکتا ہے جس کے علل اور القيامة : ١٠