نورالحق حصہ اوّل — Page 129
روحانی خزائن جلد ۸ الله وسيُرغم ۱۲۹ نور الحق الحصة الاولى القدير أنوفهم ويُرى المهيمن ذُلَّ داءِ خُنانهم عنقریب خدا تعالیٰ ان کی ناکوں کو خاک میں ملائے گا اور ان کی ناک کی بیماری کی ذلت دکھاوے گا اليوم قد فرحوا برجس تنصر والحق لا يخطو إلى آذانهم آج وہ لوگ نصرانیت کی ناپاکی سے خوش ہو رہے ہیں اور سچائی ان کے کانوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتی قوم تميل مع الهوى أفكارهم وعفَتْ نقوش الصدق من حيطانهم یہ ایک قوم ہے جن کے فکر نفسانی خواہش کے ساتھ جھک پڑتے ہیں اور سچائی کے نقش ان کی دیواروں سے مٹ گئے ہیں ظهرت كأثر السمّ ثورة وعظهم رحلت تُقاة الخلق من إدجانهم (92) زہر کے اثر کی طرح ان کے وعظ کا جوش ظاہر ہے ان کے مقام سے لوگوں کی پرہیز گاری کوچ کر گئی هل شاهدت عيناك قومًا مثلهم أم هل سمعت نظيرهم في ذانهم کیا ایسی قوم تو نے کوئی اور بھی دیکھی یا ان کے عیب میں اُن کی کوئی دوسری نظیر بھی سنی بطريقة سنّت لهم آباؤهم يدعو إلى الجهلات صوت كرانهم اس طریق سے جو ان کے باپ دادوں نے مقرر کیا ہے ان کا طنبور باطل باتوں کی طرف بلا رہا ہے فكأن أبواب المكائد كلها فُتحت لفتنتنا على رهبانهم پس گویا کہ تمام فریبوں کے دروازے ان پر اس لئے کھولے گئے کہ تا ہمارا امتحان ہو قد آثروا طرق الضلال تعمدًا ما زاد خسران على خُسرانهم گمراہی کی تمام راہوں کو پسند کر لیا جس ٹوٹے میں وہ پڑے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اور ٹوٹا نہیں إن الصليب سيُكسَرَنُ ويُدَقَّقَنُ جاء الجياد وزهق وقتُ أتانهم عنقریب ٹوٹ جائے گا گھوڑے آئے اور گدھیاں بھاگیں الكذب مجبنة لكل مُباحث لكنهم تركوا حياء جنانهم جھوٹ بولنا ہر یک بحث کرنے والے کے لئے بددلی کا باعث ہوتا ہے مگر انہوں نے تو اپنے دل کا حیا ترک کر دیا تو سم مبيد مهلك في لبنهم مَكْرٌ مُضِلُّ الخَلقِ في هَدَجانهم اُن کے دودھ میں زہر ہے جو ہلاک کرنے والی اور مارنے والی ہے ان کی پیرا نہ رفتار میں ایک مکر ہے جو خلقت کو گمراہ کرنے والا ہے