نورالحق حصہ اوّل — Page 111
روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى اور سو الجدار، وبترهم سيف الشح البتّارُ ۔ فألقتُ في الضلالة الثانية | لالچ کی تلوار ان کو دو ٹکڑے کر چکی تھی ایک گمراہی نے ان کو دوسری الضلالات الأولى، وتكونتُ مِن ظلمة ظلمة أخرى، فمالوا إليه | گمراہی میں ڈال دیا اور ایک اندھیرے سے دوسرا اندھیرا پیدا ہوگیا۔ پس اس کی طرف ایسے مائل كما كانوا مالوا إلى عقائد المسيحيين ۔ قالوا ما نشق عصا أمرك، ہوگئے جیسا کہ وہ مسیحی عقیدوں کی طرف مائل تھے اور کہا کہ ہم تیرے حکم کا انکار نہیں کرتے اور تیرے وما نلغى تلاوة شكرك، وقد أتيتنا من الغيب كملائكة منجين ۔ شکر کو ہم نہیں چھوڑیں گے اور تو تو ہمارے لئے غیب سے ایسا اترا جیسا کہ فرشتے نجات دینے والے اترتے فبادروا إلى بيوتهم فى فكر قُوتهم وتنضير سبروتهم، وما شكوا وما ہیں پھر وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اس فکر میں کہ قوت کا سامان ہو جائے اور زمین خشک سرسبز تقاعسواء بل كلّ منهم ذهب ليـأتـي بـه الذهب، وزاب ليزداب، (۸۳ ہو جائے اور کچھ شک نہ کیا اور نہ تاخیر کی بلکہ ہر ایک ان میں سے دوڑا تا کہ سونالا وے اور چلنے میں جلدی کی تا کہ وہ کچھ بھار وكانوا في سكرة حرصهم كالمجانين ۔ فلما دخلوا ربوعهم مراحًا، اٹھا لیوے اور اپنی حرص کے نشہ میں سودائیوں کی طرح ہو رہے تھے۔ اور پھر جبکہ وہ اپنے گھروں میں خوش خوش داخل ہوئے قالوا لأهلها أنعموا صباحًا، ثم قصّوا عليهم القصّة، وهنأوهم تو داخل ہوکر کہنے لگے کہ گڈ مارنگ پھر ان لوگوں کو تمام قصہ سے مطلع کیا اور ہنس ہنس کر ان کو مبارک باد دی متبسّمين۔ فصدقوا قولهم الذين كانوا كمثلهم في الجهالة پس ان لوگوں نے جو جہالت اور گمراہی میں ویسے ہی تھے ان کی باتوں کی تصدیق کی ونظيرهم في الضلالة، وكانوا يتغنون فرحين۔ فنزعوا الحلى من اور مارے خوشی کے گانے لگے۔ پھر ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے اعضاء أعضاء نسائهم و آذان إمائهم و آناف بناتهم وأيدى أخواتهم وأرجل اپنی لونڈیوں کے کانوں اور اپنی بیٹیوں کے ناکوں اور اپنی بہنوں کے ہاتھوں اور اپنی