نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 98

۹۸ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى يَوْمَ يَقُومُ الرُّوْحُ وَالْمَلَبِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ اس روز یعنی قیامت کے دن روح اور فرشتے کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے بارے میں کوئی بول نہیں سکے گا مگر وہی وَقَالَ صَوَابًا وأشير في آية على أن يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا : جس کو خدا تعالے کی طرف سے اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے اور آیت عسی ان یبعث میں اشارہ فرمایا إلى أنه تعالى لا يعطى هذا المقام المحمود إلا نبيَّه وصفيه محمدًا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ مقام محمود بجز اپنے برگزیدہ نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے المصطفى خير الرسل وخاتم النبيين ۔ وأُلقي في روعى أن المراد من اور کسی کو عنایت نہیں کرے گا اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے لفظ الروح في آية يَومَ يَقُومُ الرُّوحُ جماعة الرسل والنبيين والمحدثين مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے أجمعين الذين يُلقَى الروح عليهم ويُجعلون مكلمين۔ وأما ذكرهم اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کہ روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں بلفظ الروح لا بلفظ الأرواح، فاعلم أنه قد يُذكر الواحد في القرآن یاد نہیں کیا۔ پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ واحد کے لفظ سے جمع مراد لے لیتا ہے اور کبھی جمع سے ويراد منها منه الجمع وبالعكس، سنّة قد جرت في كتاب مبين ۔ وذكرهم واحد ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کوروح کے لفظ سے یاد کیا الله بلفظ الروح الذي يدل على الانقطاع من الجسم ليشير إلى أنهم في یعنی ایسے لفظ سے جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے یہ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ مطہر عيشتهم الدنيوية كانوا قد فنوا بكل قواهم في مرضاة الله، وخرجوا من لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی تمام قوتوں کی رو سے مرضات الہی میں فنا ہو گئے تھے اور اپنے نفسوں سے ایسے أنفسهم كما يخرج الأرواح من الأبدان، وما بقى لهم النفس وأهواء ها باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہشیں باقی رہی تھیں النبأ: ٣٩ بنی اسرآئیل: ۸۰