نورالحق حصہ اوّل — Page 91
روحانی خزائن جلد ۸ ۹۱ نور الحق الحصة الاولى شقوا كأس المنايا ثم سيقوا إلى نــار تـلــــوح وجـــــة جــــاني موت کے پیالے ان کو پلائے گئے اور پھر وہ اس آگ کی طرف کھینچے گئے جو مجرم کا منہ جلاتی تھی فهذا أجر جهل الجاهلينا من الرحمن عند الاستنان جاہلوں کے جہل کی سزا تھی یہ یا خدا تعالی کی طرف سے اس وقت ہوئی جب انہوں نے فسادوں اور فلموں میں دوڑ نا اختیار کیا وما كان الرحيـــم مُذِلَّ قوم ولكـــن بـعـد ظـلـم وافـتـنـان اور خدائے رحیم کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا مگر اس وقت جبکہ ظلم اور فتنہ اندازی اختیار کرے وهل حـــــدثـتَ مِن أنباء أمم رأوا قبـــــا بأفعال حِسانِ کیا ایسی قوموں کی تجھے کچھ خبر ہے جن کو نیکی کرتے کرتے بدی پیش آئے وكل النور في القرآن لكن يميل الهالكون إلى الدخان اور تمام اور ہریک قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں به تلنا ثرات الكاملينا به سرنا إلى أقصى المعاني ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت پائی ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر تک سیر کیا فقم واطلب معارفه بجهدٍ وخَفْ شر العواقب والهوان پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر اور انجام بد اور ذلت کی بدیوں سے سے خوف کر أتخطب عزّةَ الدنيا الدنية أتطلب عيشهـا والعيـش فـاني کیا تو اس دنیا ناکارہ کی عزتوں کا طالب ہے کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش فانی ہیں أترضى يا أخى بالخان حمقًا وتنسى وقت تبديل المكان اے بھائی کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے حمق سے راضی ہو گیا اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا وقت ہے على بُستان هذا الدهر فأس فكم شجر يجاح من الإهان اس دنیا کے باغ ہے سو بہت سے درخت جڑ سے اکھیڑے جارہے ہیں وكم عنق تكسرها المنايا وكم كف وكم حسن البنان اور موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سی خوبصورت پورمیں ٹوٹی چلی جاتی ہیں تنبر رکھا