نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 81

روحانی خزائن جلد ۸ ΔΙ نور الحق الحصة الاولى بفوج من الشياطين، فليتذكر من كان من المتذکرین کذلک و کفاره پر تکیه شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا وہ ہزار برس کے بعد نکلے۔ اسی طرح خلصوا بعد الألف وتناسوا أمام الله ونكثوا عهوده واحفظوا ربهم اور خدا کی حرمت اور اس کے عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کر کے اپنے رب کو غصہ دلایا مجترئين۔ وجمعوا كل جهدهم لإضلال الناس، واستجدوا المكائد اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور تمام تدابیر کو كالخنّاس، وجاء وا بسحر مبين۔ وأضاعوا التقوى والعمل الصالح، کام میں لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے واتكأوا على كفارة لا أصل لها واتبعوا كل إثم واستعذبوا كل عذاب، (۵۹) کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر یک عذاب کو شیریں وكذبوا المقدسين۔ وتجنّوا وقالوا نحن عباد المسيح وأحباؤه، سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو ان کے عیب ڈھونڈیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے وهيهات أن تراجع الفاسقين مِقَةُ الصالحين۔ وقد سمعت آنفًا أن اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہو سکتا ہے کہ ایسے فاسقوں کے ساتھ نیک بختوں کا میل جول ہو۔ اور المسيح سماهم فاعلى الظلم، وسمعت أن الظلم والدجل شيء تو ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مرتکب اور بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ معلم واحد، وقد قال الله تعالى أتَتْ أكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِّنْهُ شَيْئًا، أى لم اور دجالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے تنقص، وإطلاق الظـلـم عـلـى النقص الذي كان في غير محله أو کچھ کم نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا جو غیر محل ہو یا ایسی الزيادة التي ليست فى موضعها أمر شائع متعارف في القوم، وهذا بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو قوم میں شائع متعارف ہے اور اسی کا جو زیادتی پر الكهف :٣٤