نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 76

روحانی خزائن جلد ۸ ۷۶ نور الحق الحصة الاولى ده منفردا، فنحن في هذه الأوان كغريب في خان، لا كشَغِب في حماية إخوان۔ اکیلا چھوڑا جاتا ہے سو ہم اس وقت ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جو سرائے میں اترا ہوا ہو نہ ایسے شخص کی طرح لا نريد الرياسة بل آثرنا الخصاصة، ونبذنا فروة إمارة، ورضينا بعباءة فقرِ جو فساد کرنے والا اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے مفسدہ پرداز ہو ہم کسی ریاست کو نہیں چاہتے بلکہ درویشی اختیار وما بالينا طَعْنَ نُظارةٍ، ولا لوم اللائمين۔ فلا تُبَادِرُ يا لاهس كأس قسيسين کی اور ہم نے ریاست کی پوستین کو پھینک دیا اور فقیرانہ گوڑی اختیار کر لی اور دیکھنے والوں کے طعن اور ملامت کی کچھ بھی إلى ظن السوء ، ولا تنفُضُ هِذْرَوَيْك فإنّ أمرنا متبين واضح وليس شيء پرواہ نہ کی سواے پادریوں کے پیالے چاٹنے والے بدظنی کی طرف جلدی مت کر اور اپنی ٹرین مت بلا کیونکہ ہمارا حال فی یدیک، ولست من الحاكمين۔ فإن كنت تشتاق أن تستقرى طرق روشن ہے اور کوئی بات تیرے اختیار میں نہیں اور نہ تو حاکم ہے۔ اور اگر تجھے یہی شوق ہے کہ نکتہ چینی کی راہوں النميمة، فاعلم أنك خائب ولا يحصل لک شیء من غیر ظهور سِیرک کو ڈھونڈے پس جان رکھ کہ یہ مطلب تیرا پورا نہیں ہوگا اور تو نا مرادر ہے گا اگر ہوگا تو یہی کہ تیری بُری خصلتیں ظاہر ہوں الذميمة، ولا تقدر أن تُخفى ما أبداه ربنا، ولا تضر من حفظه الله وهو گی اور تو اس پر قادر نہیں ہو سکے گا کہ جس چیز کو خدا نے ظاہر کیا اس کو چھپاوے اور جس کو خدا نگاہ رکھے تو اس کو ضرر نہیں خير الحافظين۔ فأعرِضُ عنها واشتغل بنضرة دنياك وخضرتها، واصطبح پہنچاسکتا اورخدا اسب محافظوں سے بہتر ہے۔ پس تو ان باتوں سے کنارہ کر اور اپنی دنیا کی تازگی اور سبزہ میں مشغول رہ اور دن رات شراب پی اور واغتيق وافرح على جيفتها، ولا تدخل فيما لست أهله، ولا تغضب ولا دنیا کی مُردار پر خوشی کر اور ان باتوں میں دخل مت دے جن کی لیاقت تجھ میں نہیں اور غضب ناک نہ ہو اور مت بھڑک تشتعل، فإن مقت الله أكبر من مقتك، وإن ناره تحرق الظالمين۔ کیونکہ خدا تعالے کا غضب تیرے غضب سے زیادہ ہے اور اس کی آگ ظالموں کو جلادیتی ہے۔ والعجب أن اكابر المسيحيين خُدعوا فيك، وما عرفوك حق المعرفة اور تعجب کہ بڑے پادریوں نے تجھ میں دھوکا کھایا اور اس وقت تک تجھ کو نہیں پہچانا جیسا کہ حق پہچانے کا ہے اور سهو والصحيح ” مِذْرَوَيْكَ “۔ (الناشر)