نورالقرآن نمبر 2 — Page 447
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۴۵ نور القرآن نمبر ۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بات مروی نہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھ کر اپنی بیوی سے صحبت کی۔ اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ مسلم میں جابر سے ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے ۔ اور وہ اس کی نظر میں خوبصورت معلوم ہو۔ تو بہتر ہے کہ فی الفور گھر میں آ کر اپنی عورت سے صحبت کر لے۔ تا کہ کوئی خطرہ بھی دل میں گذرنے نہ پائے اور بطور حفظ ما تقدم علاج ہو جائے ۔ پس ممکن ہے کہ کسی صحابی نے اس حدیث کے سننے کے بعد دیکھا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی راہ میں کوئی جوان عورت سامنے آگئی اور پھر اس کو یہ بھی اطلاع ہو گئی ہو کہ اس وقت کے قریب ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاقاً اپنی بیوی سے صحبت کی تو اس نے اس اتفاقی امر پر اپنے اجتہاد سے اپنے گمان میں ایسا ہی سمجھ لیا ہو کہ اس حدیث کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عمل کیا۔ پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ قول صحابی کا صحیح تھا تو اس سے کوئی بدنتیجہ نکالنا کسی بد اور خبیث آدمی کا کام ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات پر بہت حریص ہوتے ہیں کہ ہر یک نیکی اور تقویٰ کے کام کو عملی نمونہ کے پیرا یہ میں لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیں۔ پس بسا اوقات وہ تنزل کے طور پر کوئی ایسا نیکی اور تقویٰ کا کام بھی کرتے ہیں جس میں محض عملی نمونہ دکھانا منظور ہوتا ہے اور ان کے نفس کو اس کی کچھ بھی حاجت نہیں ہوتی جیسا کہ ہم قانون قدرت کے آئینہ میں یہ بات حیوانات میں بھی پاتے ہیں ۔ مثلاً ایک مرغی صرف مصنوعی طور پر اپنی منقار دانہ پر اس غرض سے مارتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکھا وے کہ اس طرح دانہ زمین پر سے اٹھانا چاہیے سو عملی نمونہ (۴۵) دکھا نا کامل معلم کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہر یک فعل معلم کا اس کے دل کی حالت