نورالقرآن نمبر 2 — Page 441
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳۹ نور القرآن نمبر ۲ ہے ۔ اور صحیح بخاری اور مسلم میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں ۔ ☆ اور اس درجہ کے بعد ایک اور درجہ ہے جس کا نام ایتاء ذی القربی ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک مدت تک احسانات الہی کو بلا شرکت اسباب دیکھتا رہے اور اس کو حاضر اور بلا واسطہ محسن سمجھ کر اس کی عبادت کرتا رہے تو اس تصور اور تخیل کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذاتی محبت اس کو جناب الہی کی نسبت پیدا ہو جائے گی کیونکہ متواتر احسانات کا دائمی ملاحظه بالضرورت شخص ممنون کے دل میں یہ اثر پیدا کرتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اس شخص کی ذاتی محبت سے بھر جاتا ہے جس کے غیر محدود احسانات اس پر محیط ہو گئے پس اس صورت میں وہ صرف احسانات کے تصور سے اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کی ذاتی محبت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے جیسا کہ بچہ کو ایک ذاتی محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے ۔ پس اس مرتبہ پر وہ عبادت کے وقت صرف خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ دیکھ کر بچے عشاق کی طرح لذت بھی اٹھاتا ہے اور تمام اغراض نفسانی نوٹ : مرتبه ايتاء ذى القربى متواتر احسانات کے ملاحظہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس مرتبہ میں کامل طور پر عابد کے دل میں محبت ذاتی ، باری تعالیٰ کی پیدا ہو جاتی ہے اور اعراض نفسانیہ کا رائحہ اور بقیہ بالکل دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت ذاتی کا اصل اور منبع دو ہی چیزیں ہیں (۱) اوّل کثرت سے مطالعہ کسی کے حسن کا اور اس کے نقوش اور خال و خط اور شمائل کو ہر وقت ذہن میں رکھنا اور بار بار اس کا تصور کرنا (۲) دوسرے کثرت سے تصویر کسی کے متواتر احسانات کا کرنا اور اس کے انواع و اقسام کے مروتوں اور احسانوں کو ذہن میں لاتے رہنا اور ان احسانوں کی عظمت اپنے دل میں بٹھانا۔