نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 438

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳۶ نور القرآن نمبر ۲ کر سکتا ہے۔ احسان کر سکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں کر سکتا یہ ایک باریک فرق ہے اس کو خوب یا درکھو۔ پھر آپ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلمان لوگ خدا کے ساتھ بھی بلا غرض محبت نہیں کرتے ان کو یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ خدا اپنی خوبیوں کی وجہ سے محبت کے لائق ہے۔ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ یہ اعتراض در حقیقت انجیل پر وارد ہوتا ہے نہ قر آن پر کیونکہ انجیل میں یہ تعلیم ہرگز موجود نہیں کہ خدا سے محبت ذاتی رکھنی چاہئے اور محبت ذاتی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے مگر قرآن تو اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے قرآن نے صاف فرما دیا ہے فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا * وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ے یعنی خدا کو ایسا یا دکر و ۔ جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ ۔ اور مومنوں کی یہی شان ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت (۳۹) رکھتے ہیں یعنی ایسی محبت نہ وہ اپنے باپ سے کریں اور نہ اپنی ماں سے اور نہ اپنے دوسرے پیاروں سے اور نہ اپنی جان سے اور پھر فرمایا: حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ کے یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور پھر فرمایا اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِ ذِي الْقُرْبى " یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال پرست بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔ حق العباد کا پہلو تو ہم ذکر نوٹ : انجیل کی رو سے ہر یک فاسق فاجر خدا کا بیٹا ہے بلکہ آپ ہی خدا ہے سو انجیل اس وجہ سے کسی کو خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتی کہ وہ خدا سے کامل محبت رکھتا ہے بلکہ بائبل کی رو سے زانی لوگ بھی خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ منہ البقرة: ٢٠١ البقرة: ١٦٦ الحجرات: ۸ النحل: ٩١